آخری لفظ (افسانوی مجموعہ) فارس مغل/ تبصرہ: خدیجہ عطا
- Jan 19, 2021
- 3 min read

”آخری لفظ“ کسی درد مند دل سے نکلی اُس صدا کی مانند جس کی گونج بہت دُور تلک سُنائی دیتی ہے اور ایک حساس ذہن و دل کو بہت دیر تک بےچین کیے رکھتی ہے۔ یہ ” آخری لفظ“ سر فارس مغل کا اولین افسانوی مجموعہ ہے، اس سے پہلے ان کے دو ناول اور ایک شاعری کی کتاب منظر عام پر آ چکی ہے۔
سر فارس مغل ناصرف ایک بہترین ناول نگار ہیں بلکہ ایک کامیاب افسانہ نگار بھی ہیں۔ان کا قلم تلخ حقائق کو اتنی گہرائی میں جا کر بیان کرتا ہے کہ بعض اوقات قاری کے لیے اس تلخی کو برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ سر فارس مغل کا اسلوب بہت جاندار و پُراثر ہوتا ہے۔ بیانیہ کی روانی متاثرکن اور منظر کشی ایسی دلکش کہ ذہن کے پردے پر ایک فلم سی چلنے لگتی ہے۔ ان کے افسانوں کی ایک اہم خصوصیت موضاعاتی تنوع بھی ہے، اس کے علاوہ ان کی تحریروں میں لردار نگاری بھی اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔
سر فارس مغل کے مطابق ”پوری کائنات عورت کے ذکر کے بغیر محض بانجھ زمین کا ایک ٹکڑا ہے“، یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں عورت کے کئی روپ کھل کر سامنے آتے ہیں اور قاری کے ذہن پر ایک گہرا تاثر چھوڑ جاتے ہیں۔
آخری لفظ کے پہلے افسانے ”للّی“ کی بات کی جائے تو میرے خیال سے یہ افسانہ اس کتاب کا سب سے نمایاں اور شانداار افسانہ ہے (اس سے پہلے سر فارس مغل کا افسانہ”آخری لفظ“ مجھے سب سے زیادہ پسند تھا) جنگِ عظیم دوم کے پسِ منظر میں شاید ہی اس سے بہترین افسانہ میں نے پہلے کہیں پڑھا ہو، اس افسانے میں ظلم کی ایک داستان بیان کی گئی ہے، افسانے کے کردار جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد زندگی کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں، افسانے کے تمام کردار خصوصاً للی کا کردار اتنی عمدگی سے تراشا کیا گیا ہے کہ قاری چاہ کر بھی اس مظلوم کردار کو نہیں بھول پائے گا۔ اگرچہ یہ ایک طویل افسانہ ہے لیکن اسے پڑھتے ہوئے وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا اور قاری کے دل پر گہرے نقوش چھوڑ کر افسانہ بہت جلد ختم ہو جاتا ہے۔
”آسیب آب“ پانی کی کمی جیسے گھمبیر مسئلے کو اجاگر کرتا ایک بہترین افسانہ
”پرفیوم“ ایک غیر فطری زندگی گزارنے والی دو بہنوں کی جذبانی و نفسیاتی الجھنوں کو بیان کرتا ایک اچھا افسانہ
”ننگی خاموشی“ میں بچوں کے جنسی استحصال کو موضوع بنایا گیا ہے، یہ رونگٹے کھڑے کر دینے والا ایک انتہائی دلسوز افسانہ ہے
سر فارس مغل نے اپنے افسانوں میں ان موضوعات کا بھی بہت عمدگی سے احاطہ کیا ہے جن پر ہم کبھی کھل کر بات نہیں کر سکتے ان میں ایک افسانہ ”من چاہا لمس“ بھی ہے، جس کا اختتام دل کو دکھ سے بھر دیتا ہے۔
”آخری لفظ“ سر فارس مغل کے نمایاں افسانوں میں سے ایک ہے، اس کی تعریف کے لیے بس ایک لفظ ہی کافی ہے ” سحرانگیز“
”چاند کو خبر تھی“ یہ وہ افسانہ ہے جسے پڑھ کر بےاختیار مصنف کے گہرے مشاہدے کو داد دینے کو جی چاہتا ہے، اس افسانے میں ایک عیاش مرد اور جانور (کتے) کی نفسیات کا بہت جاندار طریقے سے موازنہ کیا گیا ہے۔
”پاداش“ ایک دل چیر دینے والا بہت ہی جاندار افسانہ ہے، یہ اس کتاب کے ان افسانوں میں سے ہے جو مجھے بہت پسند آئے
اس افسانوں کے علاوہ مارخور کا بچہ، چار چناری کا چوتھا چنار، قفس کے پھول بھی قابل ذکر افسانے ہیں۔ مجھے اس کتاب کے تقریباً سبھی افسانے بہت اچھے لگے۔مختصر کہانیاں بھی بہت پراثر ہیں۔
سر فارس مغل تلخ حقائق و مسائل کو شوگر کوٹ نہیں کرتے بلکہ جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں اسے اس کی تمام تر تلخی سمیت کھل کر بیان کرتے ہیں، دوسرے لفظوں میں (کبھی کبھی) تھوڑا سا بولڈ لکھتے ہیں۔۔۔اس کے باوجود بھی میں نے سر کو کھلے دل سے پڑھا اور ان کی کتاب پر اپنی رائے دینے کی ایک ادنی سی کوشش/جرات کی ہے۔۔۔یہ اور بات ہے کہ میں چاہ کر بھی حق ادا نہیں کر پائی۔۔۔پھر بھی مجھے داد دیجیے
اس کتاب کا خوبصورت و منفرد ترین سرورق تخلیق کرنے پر طارق عزیز بھائی کے لیے بہت داد۔۔۔۔صریر پبلیکیشنز نے ایک بہت خوبصورت و بہترین کتاب چھاپی ہے، ان کا کام قابل تحسین ہے۔ ادارے کی ترقی کے لیے بہت دعائیں
اگر آپ دور حاضر کے بہترین افسانہ نگاروں کو پڑھنا چاہتے ہیں تو پھر یہ کتاب خرید کر ضرور پڑھیے، مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب آپ کے ادبی ذوق کی بھرپور تسکین کا باعث بنے گی!























Comments