top of page

ہمجان-ایک شاہکار ناول٭مبصر: امین بھایانی

  • Dec 28, 2019
  • 10 min read

نام کتاب: ہمجان مصنف: فارس مغل (کوئٹہ، پاکستان) صفحات: 224 (سفید) قمیت: 600 روپے تاریخ اشاعت: اپریل، 2017ء ناشر: ماورا بکس، 60 دی مال ، لاہور۔ فون: 92-4 36303390ا

ناول ’’ہمجان‘‘ پڑھنے کے بعد میں یہ کہنے پر خُود کو مکمل طور پر حق بجانب محسوس کرتا ہوں کہ میں نے مدتوں بعد اس قدر مقصدیت سے بھرپور ایک ایسا شاہکار ناول پڑھا ہے جس کی ایک ایک سطر اپنے لکھنے والے کے کمالِ فن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میں یہ بات اس لیے نہیں کہ رہا کہ فارس مغل میرے دوست ہیں اور میں یہاں حقِ دوستی ادا کرنے کی رسم بنھانے کی کوشش کررہا ہوں۔ میرا تو مسئلہ ہی یہی ہے کہ میں کسی بھی تحریر کو پڑھ کر محض وہی کہنے پر خُود کو مجبور پاتا ہوں جو اُس تحریر کو پڑھنے کے بعد میرے دل و دماغ کی کیفیت اور اندرونی تاثرات ہوتے ہیں۔ یہی وہ وجہ تھی جو میری اور برادر فارس مغل کی دوستی کی ابتدا کا سبب بنی۔ جی ہاں! تین ایک برس قبل برادر فارس کے ایک افسانے پر میرے تبصرے سے معمولی سی ناراضی اور فورا بعد ہی ایک ایسی پُرخلوص دوستی کا سلسلہ شروع ہوا جس پر کم ازکم مجھے تو بے پناہ فخر ہے کہ فارس مغل جیسا کھرا، سچا اور تخلیقی شاعر، افسانہ و ناول نگار میرا دوست ہے۔ ’’ہمجان‘‘، فارس کا ایک ایسا ماسٹر پیس ہے جسے انہوں نے ’’جادوئی حقیقت نگاری‘‘(Magical Realism) کی تکنیک کا استعمال کرکے اس خُوبصورتی کے ساتھ لکھا ہے کہ میں دورانِ مطالعہ حرف حرف اور سطر سطر داد دینے پر مجبور ہو گیا ۔ مجھے یوں اُچھل اُچھل کر داد دیتے دیکھ میری بیگم نے ناول جلدی سے اُن کے حوالے کرنے کا حکمِ نادر شاہی جاری کردیا ہے تاکہ وہ بھی یہ ناول پڑھ کر جان سکیں کہ بھلا اس ناول میں ایسی کیا بات ہے جسے نے مجھے داد و تحسین کے اس قدر ڈونگرے برسانے پر مجبور کردیا ہے۔ سو چونکہ میں ناول پڑھ کر ابھی ابھی فارغ ہوا، لہذا اب یہ ناول بیگم صاحبہ کی تحویل میں ہے اور ان شاء اللہ پھر امی کے زیرِ مطالعہ آئے گا۔ فارس کے ناول کا مرکزی خیال، یا چلیں یوں کہ لیں کہ ناول میں اُٹھایا گیا مرکزی سوال کہ آیا معذور انسان سے محبت بھی کی جا سکتی ہے یا محض ہمدردی؟، کے اِردگرد گھومتا ہے۔ ناول کے مرکزی کردار ’’ویرا‘‘، ’’غفران‘‘ اور’’نرمین‘‘ معذوری کا شکار ہیں۔ مگریہ کہانی محض ان دونوں کرداروں تک محیط نہیں ہے بلکہ ہمارے معاشروں میں موجود ہر اُس انسان جس پر سماج نے ’’معذور‘‘ کا لیبل چسپاں کر کے حقارت اور تضحیک اور بہت ہو گیا تو ہمدردی کا مستحق قرار دے کر لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے کے دل کی آواز ہے۔ فارس کا یہ ناول سماج اور معاشرے کے ناخداؤں سے یہ بلند بانگ سوال کرتا نظر آتا ہے کہ کیا معذور افراد کا مقدر صرف معاشرے کی لعن طعن، حقارت یا پھر ہمدردی ہے یا کسی عام انسان کی مانند محبت جیسے لطیف انسانی جذبے پر اُن کا بھی کچھ حق ہے۔ فارس کا یہی ناول ایک اور سوال بھی اُٹھاتا ہے کہ ہمارا سماج کیا معذور کو محض معذور ہی سمجھتا ہے کہ اُنہیں دیگر انسانوں کی مانند ایک عام اور نارمل انسان سمجھنے سے ہی انکاری ہے حالانکہ وہ بھی تو ایک عام انسان کی طرح اپنے سینے میں ایک دھڑکتا دل، اُس دھڑکتے دل میں احساس و ارمان کا ایک رنگین جہاں آباد کیے اُس امید پہ جیے جا رہا ہے کہ آج نہیں تو کل امید کا یہ جہاں حقیقت کا روپ دھار لے گا۔ اس بات کی شدت کو سمجھنے کے لیے ناول کے دو کرداروں ’’عفران‘‘ اور ’’نرمین‘‘ کے مابین اس مختصر سے مکالموں پر غور کیجیئے۔ ’’اس کا مطلب تھا کہ دس برس پہلے تم بالکل نارمل تھی؟‘‘، ’’نارمل؟؟؟؟ نارمل تو میں اب بھی ہوں۔ کیا تمھیں میں ایب نارمل لگتی ہوں؟ دس برس پہلے میں ’غیرمعذور‘ تھی‘‘۔ میں اس ناول پر فارس مغل کو اس لیے بھی بھرپور داد و تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے محض معذروں کے حقوق پرخُشک کتابی بحث کو اپنے قارئین کے حوالے نہیں کردیا بلکہ یہ تو ایک سراسر رومانی ناول ہے جس میں انہوں نے بڑی کمال مہارت کے ساتھ ’’جادوئی حقیقت نگاری‘‘ کی ادبی تکنیک کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف ناول میں رومان کی چاشنی اور خوشبو گھول دی ہے بلکہ معاشرے کے معذور انسانوں کے حقوق کی آواز بھی بدرجہ اُتم بلند کی ہے۔ احباب کے علم میں ہے کہ’’جادوئی حقیقت نگاری‘‘ داستان گوئی یا کہانی کہنے (Story Telling) کی ایک ایسی تکنیک ہے جس کے تحت مصنف غیرمعمولی نوعیت یا مافوق الفطرت واقعات اور کرداروں کو حقیقت کے ساتھ مدغم کر کے کہانی کو اپنے قاری کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اِسی تکینک کو بروئے کار لاتے ہوئے فارس نے اپنے اس ناول میں ’’پروفیسر عبدالعلیم‘‘ اور ’’ارمان‘‘ کے کردار پیش کیے ہیں۔ یہ دونوں ہی ناول کے اہم ترین کردار ہیں اور بطورِخاص ’’ارمان‘‘ کا کردار اس سارے افسانے میں اُسی اہمیت کا حامل ہے جتنی کہ ناول کے دونوں مرکزی کرداروں ’’ویرا‘‘ اور ’’غفران‘‘ کی ہے۔ بلکہ سچ کہوں تو مجھے ’’ارمان‘‘ کا کردار اس سارے ناول میں سب سے زیادہ طاقتور، بھرپور ،باصدا (Vocal) محسوس ہوا۔ فارس نے نہ صرف اس کردار کی زُبانی بہت ہی فنکارانہ مہارت کے ساتھ محبت، دو محبت کرنے والوں کے مابین جسمانی و روحانی تعلق، انسان، زندگی، خدا، انسان اور وقت اور وقت اور کائنات جیسے مشکل فلسفوں کی بڑی ہی آسان زُبان میں ترسیل کی ہے کہ پڑھنے والا مصنف کی ذہانت کی داد دیئے بنا رہ ہی نہیں سکتا۔ وقت کے حوالے سے ’’ویرا‘‘ اور ’’ارمان‘‘ کے مابین چند مکالمات ملاحظہ فرمائیں۔ ’’کیا واقعی گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ وقت بھی گزرتا رہتا ہے؟‘‘ ’’جب ہم منزل کی جانب روانہ ہوتے ہیں اس وقت نناوے فیصد لوگوں کا دھیان دھیرے دھیرے منزل سے ہٹ کر وقت کی ٹک ٹک پر مرکوز ہوجاتا ہے اوروہ پھر کبھی بھی منزل تک نہیں پہنچ پاتے‘‘۔ ’’انسان کو وقت کی قدر کرنا چاہیے کیا یہ سب فضول باتیں ہیں ؟‘‘ ’’ہاں واقعی فضول بات ہے۔ انسان کو ہمیشہ اپنی اور اپنے مقصد کی قدر کرنی چاہیے‘‘۔ ’’وقت تو ویسے ہی گول گول چکر کاٹ رہا ہے درحقیقت کائنات کا مرکزی کردار انسان ہے قدرت ہمیں صرف موقعہ فراہم کرتی ہے اور ہم ان ہی مواقعوں کو چوبینس گھنٹوں میں تقسیم کر کے خود کو اپنے آقا، ’وقت‘ کا غلام مان لیتے ہیں وہ آقا جسے آج تک کوئی دیکھ سکا ہے اور نہ ہی چھو سکا ہے!‘‘ اب ذرا زندگی کے فلسفے پر ’’ارمان‘‘ کی رائے جانیے۔ ’’انسان ہمیشہ امید اور انتظار کے وقفے میں زندگی گزارتا ہے اپنے خوابوں اور ارادوں، مقاصد کو پالینے کی امید......موت کی امید......وہ ساری عمر امید پر گزارتا ہے لیکن آخری عمر میں امید اس سے رخصت لے لیتی ہے اور اُس کی جگہ انتظار لے لیتا ہے بس حضرتِ انسان کی اتنی سی کہانی ہے‘‘۔ فارس کی ایک اور خُوبی یہ بھی ہے کہ وہ جتنے اچھے افسانہ نگار ہیں اُتنے ہی اچھے شاعر بھی ہیں اور انہوں نے اپنی شاعرانہ مہارت کا مظاہرہ اپنے اس ناول میں بھی دو مقامات پر کیا ہے۔ البتہ میں نے یہاں اِس بات کا ذکر اس وجہ سے کیا کہ ان کا شاعر ہونا اُنہیں ناول نگاری میں بھی بے حد راس آیا ہے کہ اُن کا بیانیہ بڑی حد تک شاعرانہ ہے جیسے عام طور پر Poetic Diction سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ خود ناول کا عنوان فارس کی اپنی اصطلاح ہے جو کہ انہون نے ہندی لفظ ’’اردھاگنی‘‘ اور انگریزی لفظ Soulmate کے اُردو مترداف کے متعارف کروایا ہے۔ یہاں میں محض مثال کے لیے فارس کے تخلیق کردہ چند جملے پیش کررہا ہوں۔ ’’انسان کی خواہش جتی چھوٹی اور معصوم ہوگی اُس کا انتظار اتنا ہی پُرکیف ہوگا‘‘۔ ’’مجھے وہاں سے دیکھو جہاں سے تمھیں میرا جسم نہیں میری روح دکھائی دے‘‘۔ ’’ہمدردی انسان کو انسان سے ہو تو قابلِ تحسین لیکن وہ ہمدردی جو انسان سے اس کی محرومی کو دیکھ کر کی جائے......ناقابلِ برداشت!!‘‘۔ ’’اُس نے کوئی اجتجاج نہ کیا بس خاموشی سے اُس کی آنکھوں کی کھڑکیوں پر اپنی لرزتی پلکوں سے دستک دیتا رہا‘‘۔ ’’شاخ سے پھول اور سینے میں دل ٹوٹنے کی آواز نہیں آتی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ خسارہ نہیں ہوا!!‘‘۔ ’’زندگی کو جینے کے لیے پرانی رفاقتوں سے رخصت لے لینا ہی بہترہے، دوست‘‘۔ ’’معصوم صورت لڑکی جس کا چہرہ کلیسا کی مقدس موم بتیوں کی روشنی میں دمکتا رہتا‘‘۔ فارس کے جو ابتدائی افسانے میرے مطالعے میں آئے اُن میں سے چند ایک مرد و عورت کے فطری تعلق کے حوالے اور اُس تعلق سے پیدا شدہ نفسیاتی اور دیگر عوامل پر روشنی ڈالتے نظر آئے۔ ناول کو پڑھنے سے قبل میرے ذہن میں یہ خدشات بھی موجود تھے کہ کہیں عصرِحاضر کی روش کا ساتھ دینے اور ان دنوں ہمارے یہاں جو افسانوں میں بناء سوچے سمجھے اور بساء اوقات تو مخض دلپشوری کے لیے جنس کا تڑکا لگا کر بہ زعم خُود منٹو کا شاگرد کہلانے کی عجب سی روش چل نکلی ہے کہیں یہ ناول بھی اس شکار نہ ہوگیا ہو۔ علاوہ ازیں ان دنوں محبت کے فلسفے پر یہیں فیس بک پر متعدد اور انواع اقسام کی پوسٹیں دیکھنے کو مل جاتی ہیں جن میں محبت کو انسانی ہارمونز میں تبدیلی کا شاخسانہ قرار دیئے جانے پر پورا پورا زور صرف کیا جاتا ہے۔ میں نے نہ تو کبھی اس قسم کی بحث میں حصہ لیا ہے اور نہ ہی یہاں اس حوالے سے کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔ البتہ ’’ہمجان‘‘ کے ایک کردار ’’ماجد‘‘ کے حوالے سے فارس نے اس فلسفے پر بھی بڑے ہی بھرپور انداز میں روشنی ڈالی ہے جسے میں اپنے خیالات کے عین مطابق پاتا ہوں اور اس حوالے سے اس لیے بھی خُود کو آمادہ پاتا ہوں کہ یہ کسی کردار کا مکالمہ نہیں بلکہ ناول کے راوی کا اپنے قاری سے وہ مکالمہ ہے جو وہ کسی کردار کی داخلی و خارجی کیفیات اور ذہنی و قلبی واردات سے آگاہ کرنے کے لیے کرتا ہے۔ ’’عام طور پر جنسی خواہش کے نقطہء عروج پر پہنچ کر ہی نوجوان اک دوسرے کو ’آئی لو یو‘ کہتے ہیں اور خواہش کی تکمیل کے لمحہ بھر بعد ہی ایک دوسرے کے لیے محبت، پسندیدگی، چاہت کا خفیف سا احساس بھی محسوس نہیں کرتے۔ جنسی خواہشات سے تعمیر کردہ محبت بوسیدہ عمارت کی مانند زمیں بوس ہوجاتی ہے۔ ہوس زدہ محبت کے اسیر ایک لمحہ کے لیے بھلا دیتے ہیں کہ وہ کون ہیں؟ اپنی ذات اور مذہب کی راہیں کھو دیتے ہیں، اپنے آپ میں نہیں رہتے، بے خُود اور خُود سر ہوجاتے ہیں‘‘۔ ’’ہمجان‘‘ کی ایک اہم ترین خوبی اُس کا پسِ منظر اور اُس کی کہانی اور کرداروں کے اِردگرد پھیلا ہوا بلوچستان کے صوبائی درالحکومت کوئٹہ کا طالسماتی ماحول ہے جو مکمل طور پر قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ فارس چونکہ خُود کوئٹہ کے باشندے ہیں لہذا انہوں نے ہر ممکن طور پروادیِ کوئٹہ کے خوبصورت مگر اُتنے ہی پُرسرار پہاڑوں اور ہنہ جھیل کی اپنے قاری کو کچھ یوں سیر کروائی ہے کہ پڑھنے والا خُود کو اُن تمام کرداروں کے ساتھ ساتھ پاتا ہے جو کہ ’’کوہِ مہر در‘‘ کی بلند چوٹیوں سے نیچے جھانک کر وادی کوئٹہ اور شہر کی ساری آبادیوں کی نظارہ کر رہے ہیں۔ بخدا میں نے آج تک کوئٹہ نہیں دیکھا مگر فارس کا یہ ناول پڑھ کر مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ میں ابھی کچھ ہی دیر پہلے کوئٹہ کی مکمل سیاحت سے واپس لوٹا ہوں۔ بردار فارس، زندہ باد۔۔۔۔۔!!! ناول پڑھ کر مجھے اپنا گذشتہ برس ماہِ اگست میں قلمبند کیا ایک افسانہ ’’سانس کی ڈور‘‘ یاد آگیا۔ کیا اُس افسانے اور اِس ناول میں کوئی مشابہت ہے؟ جی ہرگز نہیں۔ دراصل مجھے وہ افسانہ اِس لیے یاد آیا کہ میرے اُس افسانے پر برادر فارس مغل نے ایک سوال قائم کیا تھا اور مجھ سے مصر تھے کہ میں اُس سوال کا جواب دوں۔ جبکہ میرا ہرممکن طور طریق یہ ہے کہ میں اپنے افسانے کی کسی بھی نوعیت کی وضاحت پیش نہ کروں ۔ کیونکہ میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ افسانہ نگار کا کام افسانہ لکھنا ہوتا ہے جب وہ افسانہ لکھ کر قاری کی عدالت میں پیش کر چکا تو پھر اس کا افسانے پر سے حق اور اختیار مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے اور وہ قاری کی ملکیت بن جاتا ہے سو جس قدر ممکن ہوتا ہے میں اپنے افسانوں کی وضاحت پیش کرنے سے کتراتا ہوں۔ میں نے اس کا ذکر یہاں اس لیے کیا کہ جو سوال برادر فارس مغل نے اُس وقت اُٹھایا تھا اُس کا من و عن جواب مجھے فارس کے ناول میں بھی نظر آیا۔ مختصراً میرے افسانے میں ایک بیٹا دن رات ہسپتال کے کمرے میں نمازیں اور گریہ زاری کر کے اپنی ماں اور ایک ڈاکٹر سرتوڑ کوشش کر کے اپنی مریضہ کو کوما سے واپس لانے کی تدبیر میں مگن ہیں اور جب اُسے ہوش آتا ہے تو ہرکوئی اِسی سوچ میں ہے کہ وہ میری نمازوں اور میرے علاج سے کوما سے واپس آئی ہے اور خُود اُس کا کہنا ہے کہ میری واپسی اُس ننھی ملازمہ کے سبب ہے جو ہمہ وقت اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر سہلاتی رہی۔ برادر فارس مغل نے سوال اُٹھایا کہ: افسانے کا پہلا جملہ/آغاز بہت اہم ہوتا ہے "میں نے سلام پھیرنے کے لیے اپنا چہرہ موڑا تو میری نظر امی پر پڑی"۔ یہ جملہ راوی کی مذہب پرستی کا غماز ہے یعنی اسے کامل یقین ہے کہ اسکی ماں نماز اور دعا سے رو بہ صحت ہوگی......قاری بھی راوی کیساتھ ہو لیتا ہے لیکن......پھر......اچانک......لالہ رخ OSHO ،BUDDHA وغیرہ کی "چیلی" کہیں سے نکل آتی ہے اور روحانی طور پر اس کی ماں کو کومے سے باہر کھینچ نکالتی ہے...... ہاں ایسا ممکن ہے میں تائید کرتا ہوں مگر قاری ٹھٹک کر رہ جاتا ہے وہ شبانہ روز کی عبادات اور مراقبے کے درمیان موجود گیپ کو بھرنے میں جت جاتا ہے‘‘ ۔ برادر فارس امی کو کوما سے باہر لانے والی وہی ذات ہے جو ناول ’’ہمجان‘‘ میں ’’عفران‘‘ کے اپاہج پن کو دور کر کے اُسے اپنی ٹانگوں پر چلنے پر مجبور کردیتی ہے۔ ’’ڈاکٹرقدرت علی‘‘ کی تمام تر دوائیں اور گھر والوں کی ہر دعا ناکام مگر پھر اُسی ’’ڈاکٹر قدرت علی‘‘ کی ایک موہوم سی کوشش کہ جس کا تعلق نہ تو دوا سے نہ ہی دعا سے مگر وہ شئے ’’غفران‘‘ کو اپنے معذور پیروں پر کھڑا کرنے کا موجب بن جاتی ہے۔ باالفاطِ دیگر ہر شفا اُسی شافی و کافی کی جانب سے ہے البتہ وہ جسے چاہے اُس شفا کے لیے اپنا وسیلہ بنا دے۔ جیسا کہ آپ نے خود لکھا کہ لالہ رُخ نے روحانی طور پر ماں کو کومے سے نکال باہر کیا۔ نماز کیا ہے بندے اور اللہ کا روحانی تعلق۔ برادر فارس......! سچ پوچھیں وہ نہ تو مراقبہ تھا اور نہ ہی لالہ رُخ کوئی گوتم بدھ تھی۔ وہ تو محض ایک انسان کا دوسرے انسان کے تئیں احساس، اُنسیت، تعلق، پیار اور وہی روح سے روح کی محبت تھی جس سے آپ کے اِس پُراثر ناول کا حرف حرف، سطر سطر اور صفحہ صفحہ سجا ہوا ہے۔ جی ہاں پُراثر......! کہ سچی اور بے لوث محبت سے بڑھ کر کوئی اور شئے پُراثر ہو ہی نہیں سکتی اور آپ کا یہ ناول پڑھ کر میں یہ مان ہی نہیں سکتا کہ آپ سے بہتر کوئی اور اس حقیقت کو سمجھ سکتا ہو۔ اُن سب باتوں سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ دلوں کا بھید جانے والا ہی جانتا ہے کہ ماں بیٹے کی نماز سے، ڈاکٹر کی دوا سے یا پھر لالہ رُخ کے ہاتھ سہلانے سے ٹھیک ہوئی۔ راوی تو خُود بندہ بشر ہے۔ اُس نے جو دیکھا، سمجھا اور جانا سوعرض کردیا۔......! مگر سچ......! سچ تو یہ ہے کہ او دی رمزاں اوی جانڑے......!!!۔ بحرحال یہ تو جملہ بلکہ کلماتِ معترضہ تھے۔ حرفِ آخر: یہاں میں دن رات ادب کے شائقین کا شکوہ دیکھتا، پڑھتا اور سُنتا ہوں کہ اُردو ادب بلعوم اور اُردو ناول نگاری بلخصوض انحطاط کا شکار ہے۔ خدارا......!!! اس زبانی کلامی جمع خرچ اور بحث بازی سے باہر آکر اس بہت ہی اچھے اور تخلیقی مصنف کے اس بہت ہی گہرے ، پُراثر اور بامعنیٰ و بامقصد ناول کی پزیرائی کیجیئے۔ اگر آج فارس مغل کی حوصلہ افزائی نہ ہوئی تو میں پورے وثوق کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ پھرآج بے جا واویلا کرنے والوں کو کل کہیں سچ مچ ہی خُون کے آنسو نہ رونے پڑ جائیں۔ امین صدرالدین بھایانی 28 جون، 2017ء اٹلانٹا، امریکا۔


 
 
 

Comments


Featured Posts
Recent Posts
Archive
Search By Tags
Follow Us
  • Facebook Basic Square
  • Twitter Basic Square
  • Google+ Basic Square

​FOLLOW ME

© 2017 by Faris Mughal. Proudly created with Wix.com

bottom of page