آخری لفظ (افسانوی مجموعہ) فارس مغل / تبصرہ: منیر احمد فردوس
- Jan 19, 2021
- 2 min read

"آخری لفظ" بنیادی طور پر ایک خوبصورت داخلی دروازے کا نام ہے جس کے اس پار کہانیوں کا ایک سرسبز جزیرہ آباد ہے اور یہ لفظ خودرو اگے ہوئے پودوں کی طرح نہیں بلکہ ایک خاص ترتیب میں ڈھل کر ہر طرف کہانیاں اگا دیتے ہیں ، جہاں کرداروں کے رنگا رنگ پھول کھلے ہوئے ہیں، مکالموں کی تتلیاں اڑ رہی ہیں اور افسانوں کی ایک طلسماتی دنیا آباد ہے۔ جس میں زمان و مکان کی کوئی قید نہیں، جہاں اساطیری زمانہ بھی سانس لیتا ہے، آفاقی معاملات کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے، عصری شعور کا گہرا رچاؤ بھی ہے، دہشت گردی کی سرخیوں میں لپٹا دور بھی ہے اور وقت در وقت کئی انوکھی پرتیں بھی ہیں۔ قاری اپنی مرضی سے کہانیوں کا جزیرہ گھوم پھر سکتا ہے اور جس دور میں چاہے داخل ہو کر اسے پوری طرح سے جی سکتا ہے۔
"آخری لفظ" کی صورت کہانیوں کا یہ سفر قاری اکیلے نہیں کرتا بلکہ فارس مغل کرداروں کا ایک پورا لشکر اس کے ساتھ روانہ کر دیتا ہے جن میں وہ خود بھی ایک کردار بن کر موجود ہوتا ہے جو چپکے سے قاری کی بدلتی ہوئی کیفیات سے محظوظ ہوتا رہتا ہے۔ لِلی، آخری لفظ، ننگی خاموشی اور چار چناری کا چوتھا چنار اس مجموعے کی وہ سردار کہانیاں ہیں جن کی منفرد جادوئی فضا قاری کو خود اس سے چھین لیتی ہے۔
فارس مغل کی افسانوی تیکنیک میں ناول کے تیکنیکی خدوخال صاف نظر آتے ہیں اس لئے وہ اپنی کہانیوں میں تیکھے پن یا چونکا دینے والی صورتحال سے کوسوں دور بیٹھ کر منطقی انداز میں افسانوی چال چلتے ہوئے اپنے متحرک کرداروں کی شبیہیں قاری کی آنکھوں میں بناتا رہتا ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی چالاکی نہیں دکھاتا۔ بلکہ "آخری لفظ" کے جزیرے میں وقت افسانوں کی صورت لمحہ لمحہ یوں گرتا رہتا ہے جیسے شدید گھٹن میں کسی پیاسے کے حلق میں ٹھنڈا پانی قطرہ قطرہ ٹپکا کر اسے آبِ حیات پلا دیا جائے۔ اس لئے فارس مغل کے افسانوں میں کہانی کی مقدار اور اس کی آمیزش ایک خاص تناسب میں موجود رہتی ہے ایسا نہیں ہے کہ جیسے آٹے میں نمک کم یا زیادہ مقدار میں پڑ جائے تو روٹی کھائی نہیں جا سکتی۔ فارس مغل کی افسانہ نگاری میں اس کا اپنا سکول آف تھاٹ ہے اور اس کی اپنی تیکنیک ہے۔
"آخری لفظ" کا تخلیق کار بلاشبہ اس عہد کا ایک ذہین فسوں گر ہے جو کسی بھی واقعہ میں اتر کر کہانی کا بیج کھوج نکالنے کا ہنر جانتا ہے اور پھر اسے اپنے دل کی زمین پر بو کر کہانی کو پوری توجہ اور انہماک سے سینچتا ہے۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ فارس مغل کی موجودگی میں اردو افسانہ محفوظ ہاتھوں میں ہے اور وہ آنے والے وقتوں میں قاری کو افسانے کے نئے علاقوں کی طرف لے کر جائے گا۔























Comments