انٹرویو/ فارس مغل : قلم کی روشنی(سہ ماہی مجلہ) شمارہ 5/ دسمبر 2017
Jan 19, 2021
13 min read
مہمان: فارس مغلمیزبان: خدیجہ عطا
۱) اپنے تحریری سفر کے بارے میں کچھ بتائیے۔۔۔وہ کیا سوچ تھی جس نے آپ کے ہاتھوں میں قلم تھما کر آپ کو لکھنے پہ آمادہ کیا؟
اس سوچ کے بارے میں وثوق سے کچھ کہہ نہیں سکتا البتہ یہ جانتا ہو ں کہ اسکول سے یونیورسٹی تک کتب بینی کا شوق ایک روز چپکے سے لکھنے لکھانے کی راہ پر ڈال گیا ۔۲) آپ ایک باکمال سُخن ور ہونے کے ساتھ بہترین نثرنگار بھی ہیں۔یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ آپ شاعر زیادہ اچھے ہیں یا پھر نثرنگار۔ آپ کے خیال میں آپ کی پہلی شناخت کیا ہے؟
یہ درست ہے کہ شاعری میرا پہلا پیار ہے مگر اب یوں کہنا مناسب ہوگا کہ شاعری کی دیوی نے مجھے چُنا اور نثر کی رانی کو میں نے منتخب کیا۔۳) کیا صرف اچھا تخلیق کار ہی اچھا نقاد ہوتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ایک قاری کی تنقید کس زمرے میں آتی ہے؟
تنقید کا میدان بہت وسیع ہے ایک اچھے تخلیق کار کے لیئےضروری نہیں کہ وہ اچھا نقاد بھی ہو اسی طرح ایک بہترین نقاد پربھی لازم نہیں کہ اسکی تخلیقات کو قبولیت عام حاصل ہو۔ہاں ان میں ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں تنقید کو سمجھتے ہیں جبکہ عام قارئین کا مسئلہ اور ہے اول تو وہ تنقید کی اقسام اور دبستانوں سے ناواقف ہیں دوئم ان کی غالب تعداد تنقید اور تنقیص میں فرق نہیں جانتی۔
۴) دورِ عروج کے ادب اور زوال پذیر معاشرے کے ادب میں کیا فرق ہے اور وہ کیا پیمانہ ہے جس سے معیاری اور غیر معیاری ادب کا فرق پرکھا جا سکے؟ ادب اور معاشرے کا آپس میں گہرا تعلق ہے دورِ عروج کے مسائل کی نوعیت کسی بھی زوال پذیر معاشرے سے یکسر جدا ہوتی ہے مثلاً مغربی معاشروں میں ادب کے موضوعات سائنسی ترقی ،سائنسی کرشے ،مہم جوئی، انسانی نفسیات،جنس، منشیات،فیمنازم،میٹا فزکس وغیرہ سے جڑے ہوتے ہیں
جبکہ تیسری دنیا کا ادیب اور شاعر دگرگوںتعلیمی نظام،صحت اور رہائش کی ناقص سہولیات، گندگی، تعصب، فرقہ واریت، دہشتگردی وغیرہ جیسے موضوعات سے نبرداآزما ہے۔تاریکی کے ماتھے پر سنہری دنوں کی آمد کا خواب لکھ رہا ہے۔ معیاری اور غیر معیاری ادب کو پرکھنے کا رستہ کلاسیکی ادب و شاعری کے دبستانوں کے مطالعہ سے ہو کر نکلتا ہے جبکہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب ہمارے ہاں ادب یکسانیت کا شکار ہوچکاہے۔ فی زمانہ شاعری اور نثر کی نئی کتب سے دکانیں بھری ہوئی ہیں مگریہ ادب اب تک نہ تو کوئی دوسرا غالب، فیض، فراز، پروین شاکر پیدا کر سکا اور نہ منٹو، غلام عباس، ہاجرہ مسرور، احمد ندیم قاسمی، قراۃ العین حیدر، بانو قدسیہ دے سکا۔البتہ ناول کے میدان میں جمود ٹوٹتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
۵) آج کل کے ترقی پذیر دور میں ذرائع ابلاغ و ترسیل کی بہتات ہے، سہولیات کی بھی کمی نہیں، طرح طرح کے اخبارات و رسائل اور کتابوں کی فراوانیاں ہیں سو ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ کتابوں کی اس ریل پیل اور جنگل میں کن کا مطالعہ کیا جائے اور کن کو چھوڑا جائے؟
اس ضمن میں اپنی مثال دوں گا کہ مجھے یاد ہے کالج لائبریری سے میں ایک مرتبہ (نام سے مرغوب ہوکر)فسانہء عجائب اٹھا کے گھر لے آیا چونکہ اردو میری مادری زبان نہیں ہے چناچہ جب رجب علی بیگ کی پیچیدہ اور گراں بار زبان سے سابقہ پڑا تو دو روز میں ہی لوٹا دی۔اگلے ہفتے صدیق سالک کی آپ بیتی "سلیوٹ"پر نظر پڑی اور پورے ایک ہفتے بور نہیں ہوا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ کتابیں پڑھنے کا وقت مقرر ہوتا ہے اور اس وقت کے تعین کے لیئے رہنمائی درکار ہوتی ہے جو ہماری نوجوان نسل کو میسر نہیں ۔بصورتِ دیگر کتاب دوستوں کوکثرتِ مطالعہ سے ہی آہستہ آہستہ ادراک ہوتا چلاجاتاہےکہ مجھے"کیا نہیں پڑھنا" ۔مثلاً چونکہ میرامیلان رومانی ادب و شاعری کی جانب بڑھنے لگا تھااس لیئے کتابوں کا چناؤ سہل ہوگیا۔ فارسی کی مثل، بسیار سفر باید تاپختہ شود خامی، کے مصداق تجربہ طویل سفر طے کرنے کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے ۔
۶) ناول ہمجان کے بارے میں ہمارے قابلِ احترام نقاد و مبصر کیا رائے رکھتے ہیں یہ تو میں نہیں جانتی لیکن بحیثیت قاری میں اِسے اردو ادب کا ایک منفرد اور شاہکار ناول سمجھتی ہوں۔ آپ کو ایک اچھوتے موضوع پہ اتنا بہترین ناول تخلیق کرنے کا خیال کب اور کیونکر آیا؟
سب سے پہلے توآپکا شکریہ کہ آپ ایسا سمجھتی ہیں ۔جہاں تک ناول لکھنے کے محرکات کا سوال ہے تو اسکی کچھ وضاحت کرنا چاہوں گا۔اول یہ کہ اس موضوع پر آج تک اردو میں کوئی ناول نہیں لکھا گیاجو مکمل طور پر اس مسئلہ کا احاطہ کرتا ہو۔دوئم اس مسئلے سے جڑے تلخ حقائق اور ابتر صورتحال کو رومانی کہانی میں شوگر کوٹ کر کے عام قاری تک پہنچانا مقصود تھا ۔سوئم چونکہ مجھے افراد باہم معذوری کے حلقوں میں بیٹھنے کے مواقع ملتے رہے انکے نفسیاتی، معاشی، معاشرتی مسائل سے آگاہی کے بعد ہی میں نے اس موضوع پر قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا خاص کر خواتین باہم معذوری کے حوالے سے میری تشویش ناول میں عیاں ہے کہ یہ وہ نادیدہ المیہ ہے جو گھروں کی چار دیواری میں مقید ہےگویا یہ خواتین سماج کا حصہ ہوتے ہوئے بھی نظرانداز رہتی ہیں۔
۷) ہمجان ایک ایسا ناول ہے جسے پڑھتے ہوئے ایک حساس قاری خود کو تکلیف و اذیت کی بھٹی میں جلتا ہوا محسوس کرتا ہے۔یہ ناول لِکھتے ہوئے کیا خود آپ کی بھی کیا کیفیات تھیں ؟
جی بالکل، کسی بھی دردمند دل کے لیئےدرد کی کیفیات لکھنا بڑا مشکل عمل ہے ۔یہ ناول دو سال کی مدت میں مکمل ہوا ۔کبھی کبھی کہانی اس قدر کرب میں مبتلا کر دیتی کہ قلم رکھ کر اس اضطرابی حالت سے خود کوباہر نکلالنے میں کچھ دن لگ جاتے تھے۔ ۸) آپ کا تخلیق کردہ وہ کردار جو آپ کے دل کے بے حد قریب ہو؟ یوں تو مجھے تمام کردار پسند ہیں لیکن دیگر کرداروں کی بنسبت نرمین کا کردار میرے اعصاب پر ایک مدت تک سوار رہا۔۹) اپنا کوئی ایک ایسا شعر/نظم/غزل ہمارے قارئین کے ساتھ شیئر کریں جسے تخلیق کرنے کے بعد اسے بے یقینی کے ساتھ دیکھتے ہیں؟
ایک چھوٹی سی نظم ہے جو میرے دل کے بہت قریب ہے۔
(نظم) تم سالِ نو کی رات ہو ہنگاموں سے بھرپور میں اسی رات کی صبح ہوں تنہا اور خاموش!۱۰) آپ نے زندگی کو کو کیسا پایا؟ زندگی کے متعلق ایک جملے میں مقیّد آپ کی تعریف کیا ہے؟ زندگی دھوپ چھاؤں کا نام ہے راضی بہ رضا ہو کے گزارنے میں سکون ہے میرے نزدیک خواہشات کا عذاب پالنے والے زندگی کی رعنائیوں سے محروم رہتے ہیں۔بہرحال زندگی کی پہیلی مشکل تو ہے۔ یہاں اپنا ہی ایک شعر یاد آرہا ہے یہ جان جاؤ گے کیوں خدا کو تڑپ تڑپ کے پکارتے ہیں وہ زندگی تم گزار دیکھو، جو زندگی ہم گزارتے ہیں۱۱) آپ کی رائے میں محبت کی حقیقت کیا ہے؟محبت کے متعلق ایک جملے میں مقیّد آپ کی تعریف کیا ہے؟محبت کے بارے میں میری رائے شاید آپ کو میری اس نظم کے درون مل جائے۔محبت کا ایک اور زاویہ))جب ساری دنیا رو بہ زوال ہو جاناںایسے میں پائیدار اُلفتوں کاخواب کیساناکام محبتوں کا سوال کیساہاں!تم میری پہلی محبت نہیں ہوتم میری آخری محبت بھی شاید نہیں ہومحبت کوئی سرکاری نوکری نہیں جس کا روگ ایک بارآدمی کی جاں کو لگ جائےتو ساری عمراسی کے در پہ بیٹھا رہےمحبت تو ساون کی جنمی ہوئی ہےاس کی رگوں میں بارش کا لہوشامل ہےیہ زندگی کے برسوں میں کتنی بار برسے گی۔۔کوئی نہیں جانتا !
آپ کے نزدیک ایک اچھے شاعر یا مصنف میں کیا اوصاف ہونے چاہئیں؟۱۲)ایک اچھے شاعر / ادیب کا ہاتھ حالات کی نبض پر ہونا چاہیئے ۔ بہار کے ساتھ خزاں کا درد بھی اسے بے چین رکھے۔اپنے قلم کوانسانیت کی امانت سمجھے۔محض سستی اور وقتی شہرت کے لیئے لکھنے سے گریز کرتے ہوئے ایسا ادب تخلیق کرےجس سے معاشرے میں بہتری کی امید جاگے،حسِ جمالیات بیدار ہو اور شعور کی آبیاری ہوسکے۔۱۳) کہا جاتا ہے کہ ایک تخلیق کار کو اپنی ہر تخلیق اولاد کی طرح عزیز ہوتی ہے۔ذاتی طور پر آپ کو اپنی کونسی تحریر سب سے زیادہ پسند ہے؟ پسندیدگی کی وجہ بھی بتائیے۔میں نے نظمیں لکھی ہیں انشاء اللہ بہت جلد میری کتاب بعنوان"سرخ ہونٹوں کی کُنج گلی میں"منظر عام پر آنے والی ہے۔میں نے افسانے بھی تحریر کیئے جنہیں میں بعنوان"آخری لفظ" بہت جلد شائع کرواؤں گا۔ ایک اور نیا ناول بعنوان"سو سال وفا"بھی امسال متوقع ہے ۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ ناول"ہمجان" ہمیشہ میرے دل کے قریب رہے گا اور اسکی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ اس ناول کو میں نے نہیں لکھا بلکہ اس ناول نے خود کو مجھ سے لکھوایا ہے۔۱۴) سر پاپولر فکشن کو اِتنی مقبولیت کے باوجود ادب سے خارج کیوں سمجھا جاتا ہے؟ پاپولر فکشن کبھی سنجیدہ ادب کی جگہ نہیں لے سکتا ۔ پاپولر فکشن ہم اسے کہتے ہیں جس کے اثرات معاشرے پر دیرپانہیں ہوتے اور قارئین بھی ڈائجسٹ کا اگلا شمارہ آنے تک ان کہانیوں کو بھول چکے ہوتے ہیں۔ شاید کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ڈائجسٹ میں چھپنی والی ہر کہانی یا ناول پاپولر فکشن کے زمرے میں آتی ہے جبکہ ایسا نہیں ہے ڈائجسٹ میں بہت سےمغربی ادب سے ترجمہ شدہ کہانیاں شائع ہوتی ہیں ۔اسکے علاوہ ہمارے ہاں کے بہت سے اعلٰی پائے کے مصنفین ڈائجسٹ میں چھپتے رہے ہیں۔جہاں تک بات سنجیدہ ادب کی ہے تو اسکے مصنفین شعراء ڈیڑھ صدیوں بعد بھی ہم میں موجود ہیں۔غالب میر داغ سے اقبال فیض فراز تک، منشی پریم چند، سجاد حیدر یلدرم، منٹو، اشفاق احمد،ابن صفی،مستنصر حسین تارڑ تک،اسکے بعد مغربی ،روسی ،فرانسیسی مصنفین کی لمبی فہرست ہے جنکی تحریریں آج بھی زندہ ہیں اور ہماری زندگیوں کومتاثر کرتی ہیں۔مثلاً جب کبھی تقسیم ہند کے موضوع پر موجودہ نسل یا آنے والی نسلیں اردوادب کو کھنگالیں گی تواس میں سے سعادت حسن منٹو کا"ٹوبہ ٹیک سنگھ" ضرور برآمد ہوگا اور ساری داستان سنا ڈالے گا۔۱۶) کیا کبھی حقیقی زندگی میں پرفیسر عبدالعلیم (ہمجان کا کردار) جیسے علم مابعد الطبیعات (میٹا فزکس) میں ماہر کسی شخص سے واسطہ پڑا؟جی ایسا ایک شخص میرے ملاقاتیوں میں ہے جسے میٹا فزکس پر عبور حاصل ہے اکثر دلچسپ باتیں سننے کو ملتی ہیں۱۷) آپ ادب کی کونسی صنف سے زیادہ لگاؤ رکھتے ہیں اور وہ کونسی کتاب ہے جو آپ نے بار بار پڑھی؟
اب ناول نگاری سے خاص انسیت پیدا ہوچکی ہے۔۔۔مستنصر حسین تارڑ کا سفر نامہ پیار کا پہلا شہر واحد کتاب ہے جسے میں متعدد مرتبہ پڑھنے کے ساتھ کئی بار خرید بھی چکا ہوں کہ جب بھی کوئی دوست مستعار لے جاتا ،واپس کرنے کا تردد نہ کرتا درحقیقت یہ ایسی ہی کتاب ہے جسے ہر ادیب اپنی لائبریری میں رکھنا چاہے گا۔اسی ناول پر میں نے ایک نظم لکھ کر اپنے دوست طارق عزیز کی وساطت سے مستنصر صاحب تک پہنچائی ۔نظم کے کاغذ پر مستنصر صاحب کا محبت بھر آٹو گراف آج بھی مہکتا ہے۔ ۱۸) آپ کی نظر میں کامیاب زندگی گزارنے کے تین سنہری اصول کیا ہیں؟اپنے مقصد پر نظر رکھ کر چلیئے۔۔دولت شہرت کی بجائے محنت کے پیچھے بھاگئیے۔۔حقوق العباد کی بجاآوری میں کوتاہی مت کیجئے۔ ۱۹) آپ کو کسی انسان کی شخصیت میں سب سے زیادہ کیا چیز متاثر کرتی ہے اور کیوں؟
مجھے صاحب اخلاق اور حساس انسانوں سے مل کر خوشی ہوتی ہے۔۔یہ دو وصف جس شخص میں ہونگے بلاشبہ وہی صاحب دل ہوگا ۲۰) آپ کے خیال سے ہماری نوجوان نسل کس حد تک ادب میں دلچسپی رکھتی ہے؟ انہیں ادب کی طرف راغب کرنے کے لئے آپ کی کوئی تجاویز؟۔ مجھے یاد ہے ہم لائبریریوں کی ممبر شپ لے کر کتب پڑھا کرتے تھے۔مگر اب افسوسناک صورتحال ہے کہ نئی نسل کا کتاب سے رشتہ استوار نہیں رہا اس کی ایک وجہ انٹرنیٹ ارزاں ہونے کے بعد موبائل فونز لیپ ٹاپ وغیرہ کی بھرمار ہے جس کے نتیجہ میں نئی نسل کا رحجان کتب بینی سے یکسر ہٹ چکا ہے ۔۔ ادب کی طرف راغب کرنے کا واحد حل یہی ہے کہ کتاب سے رشتہ جوڑا جائے۔سکولوں کالجوں کی سطح پر کتاب میلوں کا انعقاد ہونا چاہیے۔ بزم ادب کو تعلیمی اداروں میں فعال کرنے کی ضرورت ہے۔بچوں کے ادب پر سنجیدگی سے کام کرنا ناگزیر ہے یعنی انکی کتب کو اس قدر معیاری اور معلوماتی ہونا چاہیئے کہ بچے بخوشی انکی طرف کھنچے چلے آئیں۔اس ضمن میں دس سالہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اگر آج سے بچوں کو کتاب سے جوڑنے کے لیئے ہنگامی بنیادوں پر اقدام اٹھائے جائیں تو یہی نسل دس برس بعد ادب کے سنجیدہ قارئین میں شمار ہوگی اکادمی ادبیات کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۲۱) آپ جتنے اچھے لکھاری ہیں اُتنے ہی بہترین مبصر و نقاد بھی ہیں۔آپ کے نزدیک تنقید کرنا آسان ہے یا کسی کہانی کی تخلیق؟
مجھے آپ مبصر کہہ سکتی ہیں مگر تنقید میرا میدان نہیں ہے۔۔ بطور ادیب شاعر مجھے نثری نظم۔افسانہ نگاری اور ناولنگاری میں لطف آتا ہے ۲۲) کہتے ہیں کہ جب تک کوئی شاعر محبت کی آگ میں نہ جلے اُس کی شاعری میں درد و سوز پیدا نہیں ہوتا تو کیا شاعر حضرات کو اپنی شاعری میں محبت کا واضح اور گہرا رنگ دکھانے کے لیے عشق کی آگ میں جلنا لازمی ہے؟جو دل میں ہو نہ زرِغم تواشک پانی ہےکہ آگ خاک کو کندن بنا نہیں سکتی۔۔۔محبت کی بھٹی سے گزرے بغیر شاعر کے جذبات کندن کیسے بن سکتے ہیں۔اور پھر شاعری کا معاملہ اختیاری نہیں بلکہ الہامی ہےکہ الفاظ خالص کیفیات میں ڈھل کرہی دل پر دستک دیتے ہیں۔میں شاعری کے لیئے محبت کے تجربے سے گزرنے کو لازمی قرار نہیں دے رہا کہ بہت سے شعراء حضرات محض مشاہدات کے دم پر عمدہ شاعری کررہے ہیں ۔مگر میری رائے میں دل کو امتحان میں ڈالے بغیر عمدہ نتیجہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ۲۳) ذہن کے پردے پر ابھرتے خیالات کی یلغار کو منظم الفاظ کے ذریعے ایک اچھی تحریر کے روپ میں کیسے ڈھالا جا سکتا ہے؟
دیکھیں اچھی تحریر کے لیئے خیالات کی بھرمار کافی نہیں ہے اور آج کے نوآموز لکھاری کا مسئلہ بھی یہی ہے کہ وہ ذہن میں مچلنے والے خیالات کو کہانی ناول نظم کی صورت جلد از جلد کاغذ پر اتار کےراتوں رات مشہور ہونا چاہتا ہے تمام اصناف ادب فنون کے دائرے میں آتی ہیں اور کوئی بھی فن بعد از ریاضت ہی نکھر کے سامنے آتا ہے اس ضمن میں اردو ادب کاعمیق مطالعہ بہترین رہنما ہے مثلاً بہت سے نوآموز لکھاری افسانہ کے نام پر سادہ بیانیہ میں سپاٹ سی کہانی لکھ کر بضد دکھائی دیتے ہیں کہ اسے افسانہ مانا جائے ۔مگر اس فن کے بارےجاننے کی زحمت نہیں کرتے کہ افسانہ کے اجزاء ترکیبی کیا ہیں؟افسانہ کی خصوصیات کیا ہیں؟فی زمانہ افسانہ نگار کی ذمہ داریاں کیا کیا ہیں؟۔آپ تبھی بہترین لکھ سکتے ہیں جب آپ نے بہترین پڑھا ہوگا۔مکان بنانے کے لیئے اینٹیں، سیمنٹ، ریت، بجری کافی نہیں ہے اسے بنانے کے لیئےپرفیکٹ نقشے اور ہنرمند ہاتھوں کی بھی ضرورت ہے۔۲۴) کیا آپ کبھی جمود کا شکار ہوئے؟ اگر ہاں تو اِس کیفیت سے باہر نکلنے کے لیے آپ کیا کرتے ہیں
جی ہاں اسے انگریزی میں رائٹرز لاک کہتے ہیں ۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چاہنے کے باوجود لکھا نہیں جاتا۔۔ ایسے میں خود کو مطالعہ کی جانب راغب کرکے لکھنا ترک کردیتا ہوں بعد ازاں ذہن خود بخود دوبارہ لکھنے پر آمادہ ہوجاتا ہے ۲۵) لکھتے ہوئے آپ کو اپنے آس پاس کیسا ماحول پسند ہے؟میں عموما ًرات کے وقت لکھتا ہوں جب خاموشی اردگرد کھیل رہی ہوتی ہے اس وقت کسی بھی قسم کا شورآپ کے کام میں خلل انداز نہیں ہوتا۔خاص کرموسمِ سرما میں رات کے وقت کوئٹہ میں ہُو کا عالم ہوتا ہے۔ ۲۶) زندگی جہد مسلسل کا نام ہے۔ کبھی کبھی انسان نا مساعد حالات کا شکارہو کر پسپا ہونے لگتا ہے۔ مایوسی کا شکار ہو کرخود کو نقصان بھی پہنچا لیتا ہے ایسے حالات میں جب بے بسی انتہا کو پہنچی ہوئی ہو تو انسان کو کیا کرنا چاہیے؟
دراصل یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جب انسان کو اپنے رب سے ہمکلام ہونے کی ضرورت درپیش ہوتی ہے۔۔ میرا ماننا ہے کہ مخلوق کو اپنے خالق سے حال دل کہنے میں سکون ملتا ہے۔ زندگی بلاشبہ ایک نعمت ہے اسے بے جا خواہشات کی بھینٹ چڑھانے سے گریز کرنا چاہیئے یہ میں ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ انسان کی زندگی جس قدر سادہ ہوگی اتنی ہی راحت بھری ہوگی۔۲۷) اگر کسی کی کوئی بات طبع نازک پر گراں گزرے تو آپ کا پہلا ردِعمل کیا ہوتا ہے؟
مجھے غصہ آتا ہے لیکن ایسا نہیں کہ جسکے بعد پچھتانا پڑے۔۔ ۲۸)) زندگی سُکھ دکھ کا حسین امتراج ہے۔ آپ یہ بتائیے زندگی میں کھو دینے کا غم زیادہ ہوتا ہے یا پھر پا لینے کی خوشی؟
میرے خیال میں زندگی میں پالینے کی خوشی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ ایک دن سبھی نے کہیں نہ کہیں کھو جانا ہے ۔۔کسی شاعر نے کیاخوب کہا ہے۔ وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا ۲۹) کیا یہ حقیقت ہے کہ جس سے شدید محبت ہو اُس سے کبھی نفرت بھی ہو جاتی ہے اور کیا یہ درست ہے کہ شدید نفرت کے پیچھے بے پناہ محبت چھپی ہوتی ہے؟ھاھا اچھا سوال ہے۔۔ اصل میں محبت اور نفرت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں محبت کرنے والا نفرت کی رمز سے واقف ہوتا ہے اور اسی طرح نفرت کرنے والا محبت کی۔۔ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے محبت میں نفرت کی ہے یعنی خود کو تباہ کر لیا۔ اور ایسے بھی دیکھے جنہیں جب محبت نے اک بار چھو لیا پھر نفرت کو مڑ کے نہیں دیکھا۔۔شدید نفرت بھی محبت کی ایک قسم ہے جس میں سے انتقام اور غصے کو منہا کر دیا جائے تو حاصل ضرب بے پناہ محبت ہوگی۔ ۳۰) کیا واقعی وقت لمحہ موجود کا نام ہے جِس کا ماضی و مستقبل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا؟
جی بالکل میں نے ناول ہمجان میں اس پر روشنی ڈالی ہے اور میرا یہی ماننا ہے کہ جو پل ہاتھ میں ہے وہی وقت ہے۔۔ ماضی اور مستقبل انسان کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں آپ ماضی میں لوٹ نہیں سکتے اور مستقبل کے بارے وثوق سے کچھ بھی کہہ نہیں سکتے ۔حتٰی کہ لمحہ بھر پہلے منہ سے نکلی بات بھی ماضی کے بلیک ہول میں گم ہوجاتی ہے جسے آپ کسی صورت موڑنے کے قابل نہیں ہوتے۔ ۳۱) اگر ایک جملے میں آپ کو اپنی تعریف بیان کرنے کے لیے کہا جائے تو آپ اپنے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟میں ایک حساس انسان ہوں۔۳۲) آپ نے ایک تواتر سے ریڈیو کے ایف ایم چینلز کے لیے کہانیاں لکھیں جنہیں بہت پذیرائی ملی۔ کیا کبھی سکرپٹ رائٹنگ کے بارے میں بھی سوچا یا مستقبل میں کسی چینل کے لیے لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
جی ارداہ تو ہے اگر مجھے مکمل آزادی کے ساتھ اسکرپٹ لکھنے کی آفر ہوئی تو بہت سے آئیڈیاز ہیں جنہیں عملی جامہ پہنانا چاہوں گا ۳۴) آپ نے معذور افراد کے لیے ایک تنظیم بھی قائم ہے جو معذور افراد کو ان کے حقوق دلانے میں سرگرمِ عمل ہے۔اس کے بارے میں کچھ بتائیے؟
جی ہاں "دوست" کے نام سےیہ تنظیم اپنی مدد آپ کے تحت ان افراد باہم معذوری کی معاونت کرتی ہے جنہیں سرکاری دفاتر میں مشکلات درپیش رہتی ہیں ،جواپنے حقوق کا ادراک نہیں رکھتے انکے لیئے آگہی مہم اور۔ فنڈ ریزنگ کے ذریعے انکی معاشی حالت بہتر بنانے کے اقدام اٹھائے جاتے ہیں۔ ۳۵) اگر آپ ایک استاد ، مصنف یا شاعر نہ ہوتے تو کیا ہوتے؟تب شاید میں تجارت کے پیشے سے منسلک ہوتا۔۳۶) بحیثیت استاد طالب عملوں کو کیا نصیحت کرنا چاہیں گے؟علم محض بہترین ملازمت کے حصول کے لیئے مت حاصل کرو کیونکہ علم کے مقاصد میں نظام کائنات پر غور و فکر کرنا، اپنی شخصی اصلاح کرنا، اور زمانے والوں کو اپنی ذات سے فائدہ پہنچانا بھی ہے۔ ۳۷) نوآموز لکھاریوں کے لیے کوئی پیغام
مطالعہ کی عادت کو پختہ بنائیے جس صنف میں طبع آزمائی کر رہے ہیں اسے مکمل طور پر سیکھنے کی کوشش کیجئے اگر کوئی سینئر قلمکار اغلاط کی نشاندہی کرے تو اس رہنمائی کا فراخدلی سے خیرمقدم کیجئے۔یاد رکھیئے! عاجزی میں عافیت ہے کہ جھکے ہوئے پھلدار پیڑوں کا سایہ بھی گھنا ہوتا ہے۔
Comments