top of page

فارس مغل کا آخری لفظ (افسانوی مجموعہ) تبصرہ: حسن امام

  • Jan 19, 2021
  • 5 min read



کتاب ۔ آخری لفظ مصنف ۔ فارس مغل تبصرہ ۔ حسن امام

“ آخری لفظ “ فارس مغل کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے ۔ اس سے پہلے ان کے دو ناول “ ہمجان “ اور “ سو سال وفا “ شائع ہو کر اہل ادب کی بھرپور توجہ حاصل کر چکے ہیں ۔ ان کی نظموں پر مشتمل مجموعہ “ سرخ ہونٹوں کی کنج گلی میں “ کو بھی ادبی حلقوں میں پزیرائی ملی ۔ زیر نظر کتاب میں بیس اف

سانے اور پانچ افسانچے شامل ہیں ۔ کتاب 240 صفحات پر مشتمل ہے اور اسے صریر پبلیکیشنز نے شائع کیا ہے ۔ کتاب کی قیمت 600 روپے ہے ۔

ادیب زمان و مکان ، وقت و مقام میں قید ہو کر لکھے یا ان سے آزاد ہو کر ، اشاروں اور علامتوں میں بات کہے یا راست بیانیہ میں ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اس کے فن کی بلندی اور پستی ، اثر یا بے اثری ، کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انہی تکنیک اور اسلوب کے مدد سے وہ جو بات کہنا چاہتا ہے وہ اہم ہے یا نہیں ۔ افسانہ نگار نے اسے موثر انداز میں کہا ہے یا نہیں ، اس کی کامیابی یا ناکامی اسی کسوٹی پر پرکھی جاتی ہے ۔ فارس مغل اس میعار پر پورے اترتے ہیں ۔ فارس حقیقت پسند ہیں ۔ وہ گہری سچائیوں کو باریک بینی سے دیکھتے ہیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے قاری کے ذہن پر نقش کر دیتے ہیں ۔ قاری کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ کہانی پڑھ رہا ہے بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کوئی سچا واقعہ دیکھ رہا ہے ۔ فارس نے افسانوں کو تحریر کرنے میں افسانہ نگاری کے کرافٹ پر اپنی پختہ گرفت کا ثبوت دیا ہے ۔ چند مقامات پر ان کی حقیقت نگاری سفاکی کی حدود کو چھونے لگتی ہے ۔ ان کے افسانوں میں موضوع اور مواد کا تنوع بہت نمایاں ہے ۔ انہوں نے قومی مسائل سے لے کر بین الاقوامی مسائل تک کی جھلکیاں اپنے افسانوں میں فنی التزام کے ساتھ پیش کی ہیں ۔ وہ کردار کے خد و خال کو جس مہارت سے ابھارتے ہیں وہ قاری کے ذہن پر گہرا نقش چھوڑ جاتا ہے ۔

رحم دلی ، فیاضی ، فکر کی گہرائی ، حقیقت پسندی اور زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینے کی ناقابل تسخیر قوت فارس کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے اور ان تمام چیزوں کا عکس ان کی تحریر میں نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے ۔ وہ کسی بھی موضوع پر پوری تحقیق کے بعد لکھتے ہیں ۔کتاب میں شامل افسانہ “ دہشت گرد “ کے ایک کردار اسامہ سے متعلق لکھتے ہوئے انہوں نے مجھے میسج کیا کہ کیا اسامہ یا محمد نام کے لوگوں کا امریکہ میں داخلہ بند ہے ؟ میں انہی دنوں امریکہ سے واپس آیا تھا ۔ میں نے بتایا کہ میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ۔ میں ذاتی طور پر امریکہ میں اسامہ اور محمدسے شروع ہونے والے ناموں کے افراد سے واقف ہوں ۔ فارس کے افسانوں میں فکر کی گہرائی تو ہوتی ہی ہے لیکن ساتھ ساتھ جب وہ کوئی حقیقی منظر پیش کرتے ہیں تو factual accuracy کو یقینی بناتے ہیں ۔

کتاب کے بیشتر افسانے عورت کے مختلف روپ کے گرد گھومتے ہیں ۔ کمسن بچوں کے جنسی استحصال کو بھی موضوع بنایا گیا ہے ۔ پانی کی کمی ایک گمبھیر مسئلہ ہے جسے بڑی فنکارانہ چابکدستی سے اجاگر کیا گیا ہے ۔ ہر افسانے میں زبان و بیان کی دلکشی قاری کو مسحور کر دیتی ہے ۔ کچھ نمونے پیش خدمت ہیں ؛

نادر تشبیہات ۔

* درختوں میں ہوا کا زبردست جھونکا داخل ہوا اور جنگل یوں بول اٹھا جیسے بہت سارے سانپ اکٹھے پھنکار رہے ہوں ۔ ( للی ) * تدریسی وقت کے اختتام پر ماحول میں قدرے خاموشی در آئی تھی کہ اس سمے طلباء کے ساتھ شور مچاتا ہوا اسکول کسی دریدہ پیرہن مفلس فقیر کی مانند گہری سوچ میں غرق تھا ۔ ( ننگی خاموشی ) * جسم کی پتنگیں روزانہ صبح آسمان میں بلند ہوتیں اور سر شام اپنی چھت پر اتار لی جاتیں ۔( پرفیوم ) * دھیرے دھیرے تعلیم کسی غیر ضروری چیز کی مانند گھر کے کباڑ خانے میں پھینک کر بھلا دی گئی ۔( من چاہا لمس ) * وکیل کے سرخ ٹماٹر ایسے چہرے تلے پھنسی لال ٹائی یوں جھٹکے مارنے لگی جیسے تازہ کٹی ہوئی گردن میں سے لہو کی دھار چھوٹ گئی ہو ۔( سکیچ ) * شہر کے اس پوش علاقے سے نکل کر ایک خستہ حال سڑک کچی بستی کو مڑتی جہاں مقدر کی بھول بھلیوں جیسی گلیوں میں کہیں اس کا ٹھکانہ تھا ۔ ( زرینہ مدینہ ) * وہ چالیس کے پیٹے میں تھی ۔ بظاہر چہرہ جاڑے کے پورے چاند ایسا پرسکون تھا مگر غور کرنے پر کجراری آنکھوں میں شراب کی لہریں اور لب لعلیں پر مرد مار مسکان کھیلتی دکھائی دیتی ۔ ( آخری لفظ ) * جس طرح مٹی اور پانی پوشیدہ نعشوں کی قے کر دیتے ہیں اس طرح تاریخ بھی کبھی کبھی جھوٹ کے بطن میں پنہا سچ اگل دیتی ہے ۔ ( شاہ، بیگم اور غلام ) * انسان اپنے دیس میں بھلے چٹان حوصلہ ہو مگر پردیس میں اس کی حیثیت ہوا کے رحم و کرم پر اُڑتے کسی تنکے جیسی ہوتی ہے ۔ ( دہشت گرد ) * آسمان میں سفید بادلوں کا شا میانہ کھنچا ہوا تھا کہ کوئی ستارہ جھلملاتا دکھائی نہ دیتا ۔( مارخور کا بچہ ) * ارمانوں کے سرخ پھولوں کی مہکار میں جلترنگ قہقہے کمرے کی دیواروں پر ان دیکھے بوسوں کی مانند ثبت تھے ۔( چاند کو خبر تھی ) * بوڑھا ناول نگار ایسے چونک اٹھا جیسے بھٹیارن نے طیش میں گرم ریت اڑا دی ہو ( رعدے سے جاگا ہوا شخص ) * گندگی بھی امیبا کی طرح شکلیں بدلتی ہے اور کوئی ذی شعور اس کی کسی ایک شکل سے دھوکا نہیں کھا سکتا ۔ ( والعصر ) * مجھے ہر اس جگہ سے نفرت ہے جہاں انسانیت بھی گاڑیوں کے ساتھ باہر پارک کرنی پڑتی ہے ۔ ( چار چنار کا چوتھا چنار ) * ذرا دیر میں تازہ خون سے لکھی خبر گاؤں میں تعفن کی مانند پھیل گئی ۔ ( پیرا ٹروپر کی رائفل ) * محبت ! ایک طلب کا نام ہے جس کا ازل سے انسانوں کی جانگھوں کے درمیان ٹھکانہ ہے ۔ ( لاسٹ پف )

فارس مغل کا ادبی سفر کامیاب ہے ۔ بحیثیت تخلیق کار انہوں نے اپنی دنیا آپ پیدا کی ۔ وہ بلا شبہ ایک ذہین اور زیرک تخلیق کار ہیں ۔ وہ اپنی کہانیوں میں تہ داریوں کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔ ان کا مطالعہ اور مشاہدہ گہرا ہے ۔ وہ خود کہتے ہیں کہ ان کا مطالعاتی دور تخلیقی دور سے طویل تر ہے ۔ فارس ایک سیپ ہیں جس کے ذہن میں خیال کا ننھا سا زرہ پڑتا ہے اور کہانی کے ایک دلکش موتی میں تبدیل ہو جاتا ہے جس کی چمک آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے ۔

یہ کتاب افسانوی ادب میں ایک خوشگوار اضافہ ہے ۔ ان افسانوں کی قدر و قیمت کا تعین تو آنے والا وقت کرے گا لیکن ہر اہل ذوق کی ذاتی لائبریری میں اس کتاب کی موجودگی ادب سے ان کی دلچسپی کا تعین ضرور کرے گی ۔ کتاب کلچر کو فروغ دینے کےلیے اسے خرید کر پڑھیں ۔

میں معذرت خواہ ہوں کہ جلدی بازی میں پڑھی گئی کتاب پر کیا گیا تبصرہ اس کے شایان شان نہیں لیکن کیا کروں کہ آنے والے دنوں کی مصروفیت سے شاید اتنا وقت بھی نکالنا مشکل ہو ۔

حسن امام کراچی ۔ ۲۳ جولائی ۲۰۲۰

Comments


Featured Posts
Recent Posts
Archive
Search By Tags
Follow Us
  • Facebook Basic Square
  • Twitter Basic Square
  • Google+ Basic Square

​FOLLOW ME

© 2017 by Faris Mughal. Proudly created with Wix.com

bottom of page