top of page

حُسن و جمال کا شاعر۔۔۔فارسؔ مغل

  • Mar 19, 2017
  • 2 min read

قدرت بہت مہربان ہو تو سوچ کی قندیل روشن ہوتی ہے۔ قلم کو صفح? قرطاس پر موتی بکھیرنے اور لفظ کو فضائیں معطر کرنے کی استطاعت ودیعت ہوتی ہے۔ اگر قدرت کی فیاضی بے حد و حساب ہو جائے تو کہیں یہ صلاحیت عطا ہوتی ہے کہ مختلف اصناف سخن پر یکساں دسترس بھی ہو۔ فارس مغل قدرت کا ایسا ہی انعام یافتہ قلمکار ہے جو یکساں مہارت اور چابکدستی سے نثر اور نظم لکھنے پر قادر ہے۔ نثر میں افسانہ اور ناول جبکہ شاعری میں عرْوضی اور غیر عرْوضی ، ہر دو اسلوب پوری بلوغت فکر اور ندرت خیال کے ساتھ تواتر سے لکھتا چلا جاتا ہے۔ تخلیقی جوہر کے ساتھ ساتھ تنقیدی نظر گہری اور مْشاہدہ عمیق ہے۔ شخصیت کی بے بہا اضافی ذاتی خوبیاں سونے پر سہاگہ۔ انہی صفات سے متصف فارس مْغل قلیل وقت میں دنیا بھر کے اردو پڑھنے اور لکھنے والوں میں اپنی شناخت قائم کر کے مستند ادبا اور شعراء

کی صف میں شامل ہو گیا ہے۔ زیر نظر کتاب " سْرخ ہونٹوں کی کنج گلی میں" فارس مغل کی نظموں کا مجموعہ ہے۔ ان نظموں کا مطالعہ ہمیں ایک ایسے شاعر سے متعارف کرواتا ہے جو رنگوں اور خوشبوؤں کا شاعر ہے۔ درد اور کرب کا شاعر ہے۔ ادراک اور وجدان کا شاعر ہے۔ حسن و جمال کا شاعر ہے۔ وطن اور اہل وطن سے محبت اس شاعر کے کلام سے اْمڈ اْمڈ پڑتی ہے۔ احساسات کا طلاطم ، جذبات کا مد و جزر، رعنائیوں کا بحر بے کراں اور خوشبو کی لپٹیں لپک لپک کر استقبال کرتے ہیں۔ نظم "پھول کو ستانے سے " گْداز ملاحظہ فرمائیے۔ پھْول کو ستانے سے ڈرائنگ رْوم سجانے سے خوشبوئیں مر جاتی ہیں تتلیاں ڈر جاتی ہیں فارس مغل کی حساسیت اسکی نظم " بلا عنوان " میں رات بھر کی لٹی پٹی لڑکی کو معاوضے میں ملے کرنسی نوٹ پرس میں ڈالتے ہوئے مصور کرتی ہے۔ نظم کے الفاظ، " جیسے کوئی جواری ہارنے کے بعد ہاتھ میں پکڑے بقیہ تاش کے پتوں کو انکی بے وقعتی پر جھنجھوڑ کر پھینکتا ہے" پڑھتے ہی حساس دل ڈوبنے اور آنکھیں ڈبڈبانے لگتی ہیں۔ رْومان کا شاعر جب اپنی نظم "لان ٹینس" میں ریل کے ڈبے میں چیونگم کے بنے بلبلے کا بنایا رشتہ نبھاتا ہے تو قاری کو منظر کا حصہ بنا کر ساتھ ساتھ سفر کرواتا ہے۔ نظم " کسی کو دیکھ کر " میں آنکھیں موندے لیٹی لڑکی ، دھوپ جس کے چہرے پر ضوفشاں ہوتی ہے اور سینے پر اوندھی پڑی کتاب کا سرورق برف سے ڈھکی پہاڑی چوٹی دکھائی دیتا ہے شاعر کے ساتھ قاری کو بھی مسحور کر جاتی ہے۔ یہی شاعر ماضی کے دھندلکوں سے سوچ کی روشنی کشید کرتا کبھی جینیفر کے قدیم درختوں سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے خواب دیکھتا ہے تو کبھی گوادر کے مستقبل پر فکر آگیں خیال آرائی کرتا نظر آتا ہے۔ اسی حساس اور زیرک شاعر کی نظم " گرہ" کا لطف لیجے، " اک رشتہ میں گرہ پڑی ہوئی ہے مدت سے اسے کھولتے ناخن ٹوٹ گئے ہیں نہیں کھلی آخری کوشش کر دیکھوں گا ورنہ قینچی پاس دھری ہوئی ہے" دعا ہے کہ یہ ابھرتا ادیب اور شاعر اردو ادب کے ماتھے کا جھومر بنے۔ ایسا درخشاں ستارہ بن کر چمکے کہ اس کی روشنی چار و انگ پھیل پھیل جائے۔ ( جاوید انور ) لاہور

Comments


Featured Posts
Recent Posts
Archive
Search By Tags
Follow Us
  • Facebook Basic Square
  • Twitter Basic Square
  • Google+ Basic Square

​FOLLOW ME

© 2017 by Faris Mughal. Proudly created with Wix.com

bottom of page