top of page

فارس مغل اکیسویں صدی کا ابھرتا ہوا ناول نگار//آغا گُل

  • Mar 19, 2017
  • 4 min read

فارس نے ریڈیو کے ایف ایم چینل سے یوں تواتر سے کہانیاں لکھیں کہ اسکے تخلیقی عمل سے ادباء متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اظہارِ تلفظ اسکی پہچان بنی اور یہی اسکی انفرادیت ہے فارس کا نیا ناول" ہمجان"ایک نہایت ہی مشکل تکنیک میں لکھا گیا ہے جسے نبھانا خاصہ دشوار تھا جس طرح اساتذہ شعوری طور پر سنگلاخ زمینوں میں غزلیں کہہ کے لوہا منواتے ہیں بعینٰہ فارس مغل نے بے حد مشکل اسلوب اور تھیم میں نہایت ہی فلسفیانہ انداز میں محبت اور لطیف جذبوں کی ماہئیت بیان کرتے ہوئے کہانی کو آگے بڑھایا ہے تاہم نہایت ہی چابکدستی سے آرٹسٹک نمائندگی کرتے ہوئے ناول کو رومانس سے باہر نہیں نکلنے دیا ۔ ناول میں اردھانگنی کا ہندی فلسفہ بیان کیا گیا ہے کہ مرد عورت کو باہم جوڑ کر بنایا گیا ہے۔ یونانی فلسفہ میں بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ مرد عورت کو کاٹ کر الگ الگ پھینک دیا گیا جونہی وہ سامنے آتے ہیں جڑت کو بیتاب ہو جاتے ہیں۔ بعضے اسے پچھلے جنم یا پھر جنم جنم کا ساتھ بتلاتے ہیں۔ یہ ایک طویل بحث ہے ہزاروں برس پرانی یا شاید اتنی ہی جتنا کہ انسان قدیم ہے۔ میں نے اپنے ناول" بیلہ " میں ڈاکٹر سرور کی زبانی ایک طویل مکالمہ کہلوایا کہ محبت ہے کیا یا اسے کیا سمجھا جاتا ہے۔ دنیا کی ادبی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو قدیم یونان کے عظیم شاعر ہومر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نابینا تھا کیونکہ یہ نام ہومرس(نابینا پن) سے اخذ کیا گیا ہے۔ قدیم یونانی فلسفی زینو نے خود اپنی آنکھیں دی تھیں کہ نظارہاسکی سوچ کے عمل میں رکاوٹ ہے ۔سیموئیل ٹیلر کا لرج کو گنٹھیا تھا اس دور میں افیون کھلانے کے علاوہ درد کا علاج ہی نہ تھا درد کُش دواؤں کاتصور نہیں تھا افیون کے اثر میں ہی اسے عظیم نظم "قبلائے خان"عطا ہوئی۔جان ملٹن کو ڈاکٹروں نے خبردار کیا تھا کہ لکھنا پڑھنا چھوڑ دے ورنہ آنکھوں کی روشنی ختم ہوجائے گی سترہویں صدی کے معالجین کا خیال تھا کہ بینائی آنکھوں کے اندر ہوتی ہے لکھنے پڑھنے باریک بینی سے خرچ ہو تی رہتی ہے جان ملٹن نے سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ وہ تخلیقی عمل جاری رکھے گا اسکی نظم " آن ہز بلائینڈنس"میں کہیں بھی اسے نابینا ہونے کا تاسف نہیں ہے ۔ فارس مغل بھی محبت کی طاقت بیان کرتا ہے اسکے ناول کا کردار ڈاکٹر قدرت بتاتا ہے اور وہ عمل کرتا ہے تجسس اور چیلنج قبول کرنے کی ہمت اس میں بہت زیادہ ہے وہ عملی تاریخی حوالوں سے کہانی کو سجاتا ہے جیسے "ایک اذان گونجی جس میں جوشِ بلال تھا" اور وہ سوال بھی کرتا ہے کہ "معذور فرد کیوں اس بات پر مطمئن نہیں ہوجاتا کہ وہ محبت کا نہیں صرف ہمدردی کا مستحق ہے"دراصل فارس ہمدردی کو ترس، رحم قرار دے کر اسکا طلبگار نہیں بلکہ اسکا کردار محبت چاہتا ہے برابری کی سطح پر اور وہ بھی غیر مشروط۔ ڈاکٹر قدرت کا نام بھی علامت کے طور پر استعمال ہوا ہے جو شفاء دینے کی قدرت رکھتاہے ناول میں اسکے مکالمے نہایت ہی جاندار ہیں میری رائے میں ناول کے دونوں ہیروز ارمان اور غفران " بائی پولر سنڈروم "کا شکار ہوجاتے ہیں یا تصوف کی اصطلاح میں فنا سے گزر جاتے ہیں "تُو من شُدی"والا فلسفہ چل نکلتا ہے اسکے تخیل اور کرداروں میں ایک طاقتور دیوی سامنے آتی ہے یہ معذوری کی دیوی ہے۔افسانہ نگار افتخار عفیؔ کی مانند فارس کے لفظوں سے بھی درد ابھر ابھر آتا ہے جیسے چشمہ پھوٹ پڑتا ہے کاریز زمین سے نکل آتی ہو۔ "ڈسپرین جیسی بات بتاؤ جس سے فوراً میرا درد ختم ہوجائے"یا پھر یہ کیفیت"اس معذوری کی مہر کو اپنے ماتھے سے کیسے مٹاؤں"۔وہ معذوری کو قبول اور مشخص کرتا ہے "معذوری کی دیوی کے ساتھ بیٹھا زمین کو دیکھ رہا ہوں" فارس مغل نے دُردِ تہِ جام فقروں میں بہا دیا ہے ناول کی بُنت سے کہیں پُر اثر اسکے مکالمے اور اسٹروکس ہیں۔ٹیکسلا کا ظفری پاشا اپنی معذوری کے باوجود اعلٰی افسانے تخلیق کیئے جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وقت کے ساتھ ساتھ فارس کے انداز میں ایک تدبیر در آئے گی جسے شاید وہ شعوری کوشش سے روکے جا رہا ہے یا شاید طبیعت کا خاصہ نہیں ہے عظیم افسانہ نگار ایڈگر ایلن پو پُراسرار اور خوفناک افسانے لکھنے کا انداز دے گیااور پھر ایک روز ہذیانی حالت میں سڑک پر پایا گیا تھا اس نے موت کے موضوع پر) میکابر ٹیلز)میں لکھا وہ خود پہ قابو نہ پا سکا اور ڈپریشن کا شکار ہو گیا۔نیکولائی گوگول عظیم ناول نگار بھی "دی ڈیڈ سولز"لکھ کر ڈپریشن میں چلا گیا جبکہ فارس نہایت ہی اذیت ناک کہانی نبھاتے ہوئے بھی پُرجوش ہے صاحبِ ایمان ہے اس نے فنی طور پر غیب دانی کی تکنیک استعمال کی ہے جس میں کیفیات محسوسات روشنیاں کرداروں کے ساتھ ساتھ اپنا تاثر بھی قائم رکھتی ہیں فارس مغل میں ایک بڑے ناول نگار بننے کی تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں۔ ھمجان اپنی نوعیت کا پہلا ناول ہے جس کی کہانی گنجلک اور کردار مضطرب ہیں حتٰی کہ ارمان اور غفران بھی غیر متجانس ہیں جبکہ غفران مشکوک خود تقسیم کا مظہر ہے۔ایسے مشکل کرداروں سے کہانی کو آگے بڑھانا اور المیے کے اثرات مٹاتے ہوئے چلنا کہانی کار کے لیئے تنے ہوئے رسّے پر چلنے کے مترادف ہے فارس مغل نے نہایت ہی مہارت سے الفاظ کا چناؤ کیا اور اکثرجذباتی انداز اختیار کیا جس کے باعث ناول پوری توجہ مبذول کروانے میں کامیاب رہا ہے۔میں فارس کے اس ادبی شاہکار کی راہ دیکھ رہا ہوں۔ آغا گل ۲۰اور۲۱ دسمبرکی درمیانی شب 2016ء


Comments


Featured Posts
Recent Posts
Archive
Search By Tags
Follow Us
  • Facebook Basic Square
  • Twitter Basic Square
  • Google+ Basic Square

​FOLLOW ME

© 2017 by Faris Mughal. Proudly created with Wix.com

bottom of page