فارس کے نظمیہ آہنگ کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں
- Mar 19, 2017
- 1 min read

فارس مغل کی شاعری پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہمہ وقت زندگی کے اسرارورموز کی پرتیں کھولنے میں سرگرداں ہے ایک طرف زندگی کی تلخ حقیقتیں اس کے قلم کی گرفت میں آکر نظم بن جاتی ہیں تو دوسری جانب اس کی آنکھوں کے خواب اشکوں کی ردا اوڑھ کر قرطاس پر اتر آتے ہیں۔ فارس کے ہاں خیال کی وسعت اور احساس کی شدت یکجا ہو کر نظم کو تازہ کاری عطا کرتے ہیں اور احساس کی یہی گہرائی قاری کو ایک نئی دنیا میں لے جاتی ہے۔ فارس کی شاعری کے رومانوی پہلو بھی کائناتی اور ذاتی مسئلوں میں الجھے نظر آتے ہیں کہ وہ آج کے دور کا باشعور شخص ہے جو مسائل کی آگ میں جھلستا رہتا ہے مگر اپنے اندر کے رومانوی شاعر کی بودوباش میں بھی کوئی کمی نہیں آنے دیتا میں
اور امید کرتا ہوں کہ اسکا یہ سفر نئے جہانوں اور نئی دنیاؤں کو مسخر کرتا رہے گا۔ احمد وقاص کوئٹہ























Comments