ہمجان کی کھوج میں۔۔//نگہت نسیم
- Mar 19, 2017
- 1 min read

فارس مغل نے اپنے ناول "ہمجان" میں شعوری طور پر کلاسک فلسفیانہ انداز میں اپنی قلمی پختگی سے منظر کشید کیئے ہیں ا نکے رنگ بہت دلفریب اور دلپذیر ہیں۔ وہ یہ بتانے میں کامیاب نظر آتے ہیں کہ ہماری پرسیپشن یعنی ہمارا ادراک ہی چہرے بناتا ہے ہم جیسا سوچتے ہیں ویسا ہی انسان لگنے لگتا ہے یعنی نارمل لوگوں کے ابنارمل رویئے معذور ی کو جنم دیتے ہیں۔ کبھی ان کی نفی اور کبھی ان پر حد سے زیادہ توجہ انہیں تنہا کر دیتی ہے ۔ ہمجان کی کھوج میں جا بجا یہ احساس بھی ساتھ رہتا ہے "توازن کا حسن ہی یہی ہے کہ عدم توازن رہے "جیسے ایک ہی وقت میں برطانوی طبیعات دان اسٹیفن ہاکنگ جیسا معذور بھی ہو اور اس کے متوازی عام انسانوں کا ہجوم جن کی سوچ اتنی سطحی ہو کہ انہیں اپنی ذہنی مفلوجی کا احساس تک نہ ہو۔ ڈاکٹر نگہت نسیم سڈنی ، آسٹریلیا
دسمبر 2016ء























Comments