ڈیمانڈ اینڈ سپلائی
- May 9, 2017
- 1 min read
ہم دونوں اس رات بازارمیں لوگوں کے بے سکون، اداس اورخوفزدہ چہروں پر سجی مصنوعی مسکراہٹوں پر تبصرہ کرتے ہوئے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔۔۔۔۔۔ کہ اچانک میرا دوست " سروس شْوز"کا روشنیوں سیجگمگاتا بورڈ دیکھ کر ٹھٹک کررہ گیا

۔۔۔۔۔ " یہ کیا ظلم ہوا یار۔۔۔ یہاں تو کتابوں کی دکان ہوا کرتی تھی" اْسکا حیران و پریشان چہرہ دیکھ کر مجھے ہنسی آگئی " اسے ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کی تھیوری کہتے ہیں پیارے "۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ " کیا مطلب " " مطلب یہ کہ۔۔۔ اب اس شہرکوکتابوں سے زیادہ جوتوں کی ضرورت ہے "























Comments