سو سال وفا' ایک دلیرانہ ناول ہے۔ آغا گُل
- Dec 26, 2019
- 3 min read

فارس مغل ہمارا ابھرتا ہوا تخلیق کار ہے۔ٹالسٹائی نے کہا تھا کہ روس کے سارے ادیب نیکولائی گوگول کے ’اوور کوٹ‘ سے نکلے ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ بلوچستان کے نوجوان ناول نگاروں پر میرے ناول’دشتِ وفا‘ کے گہرے اثرات مرتسم ہوئے ۔’سوسال وفا‘ ایک خاص انداز’ ڈاڈا ازم ‘میں لکھا گیا ہے۔۱۹۶۱ء میں چلنے والی یہ تحریک استجابی ہے۔عالمی حالات سے برگشتگی،بوریت،انفرادی خودنمائی اور خود اشتہاری سے پیدا ہوئی۔ اسے تجریدیت کا سائن بورڈ بھی قرار دیا جاتا ہے۔تحریک کا مقصد روایت شکنی اور ریاستی جبر کے خلاف بے زاری کا اظہار گویا باغیانہ تحریک سے توڑنا۔ ناول’سو سال وفا‘ کے بیانیہ میں ڈائری کا التزام رکھا گیا ہے ۔یہ انداز سترھویں صدی سے ہی مقبول ہوتا چلا گیا۔ سولہویں صدی کے بادشاہ ایڈورڈ ہشتم کی ڈائری نے مقبولیت کے جھنڈے گاڑ دئیے۔ورڈزورتھ کی زندگی کے گوشوں کا ڈائری سے ہی پتہ چلتا ہے۔ایسے بہت سے ناول اور افسانے ڈائری کی ہیئت میں لکھے گئے ۔فارس مغل زمینی حقائق کو fantasyاور imagination کے ساتھ باہم ملا کر لکھتا ہے۔تلخ حقائق کو قدرے defuseکر کے sugar coated کر دیتا ہے جس کے باعث euphoric اندازپیدا ہوتا ہے جس کے اندر بلوچستان کی تاریخ، ثقافت، معاشیات،سیاسیات اور رحجانات یوں ملتے ہیں کہ پورا بلوچستان بولنے لگتا ہے اپنی تمام تر رعنائیوں اور سچائیوں کے ساتھ سامنے چلا آتا ہے۔Eagle view سے گوادر سے قمر دین کاریزاور رکھنی سے حب تک کا علاقہ بولنے لگتا ہے۔فارس گونگے بلوچستان کو حقِ گویائی دیتا ہے کبھی وہ flow of consciousness کا مظاہرہ کرتا ہے اور کبھی soliloquy کا۔سولہویں صدی کی faustus theme یعنی کوئی بھی انسان ڈاکٹر فاسٹس کی مانند اپنی روح شیطان پر فروخت کردے،فارس کے ناول میں ملتی ہے۔تحریر کی sensibility دل کو چھول لیتی ہے اور ساتھ ساتھ خوبصورت فقروں کے اسٹروک بھی لگاتا ہے۔مثلاً’خدا مہربان ہو تو آسانیاں آواز دے کر پاس بلاتی ہیں‘۔’اسے میر نصیر خان کے وارثوں سے خوف آتا ہے‘۔بہت دلکش اور بامعنی فقرے ہیں۔پھر رواج میں مذاہب Blendہوتے ہیں۔ساحرؔ بھی ان سے سر مارتا تھا۔اسی طرح بابائے بلوچستان نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کو بلوچستان کا 9/11قرار دیا گیا۔نواب صاحب کو وفاقی وزیر دفاع، وزیر اعلٰی ،گورنر کے عہدوں پر تعینات کر کے ان کی انتظامی قابلیت سے فائدہ اٹھانے والوں نے ان پر ریاست کی مخالفت کا الزام لگایا۔عام تاثر ہے کہ وفا کے اسٹیکرز پنجاب میں چھپتے ہیں،ریاست مخالف اسٹیکرز بھی وہیں تیار ہوتے ہیں اور کسی کے ماتھے پر اسٹیکر چسپاں کرنے کا اختیار بھی انہی کے پاس ہے۔قلی کیمپ یا شاہی قلعہ لاہور کا عقوبت خانہ بھی انہی کا ہے۔قانون کی زبان میں اسے lynch law کہا جاتا ہے۔میر محراب خان کی شہادت کے بعد بلوچستان مشیروں کے اشاروں پر چلنے لگا۔انگریز من پسند وزیر لگاتے،ریاست قلات کا ایک وزیر اعظم پرائمری پاس تھا،ہماری ایک صوبائی وزیر تعلیم اَن پڑھ تھی،ایک سیکرٹری تعلیم مڈل پاس تھا۔یہ بلوچستان کا المیہ رہا ہے یا پھر ہماری بدقسمتی۔بلوچستان ڈیڑھ سو برس سے ایک کالونی چلا آرہا ہے۔کالونی میں غلام رہتے ہیں۔جنہیں مار دھاڑ اور ڈنڈے کے زور پر قابو کیا جاتا ہے۔قدم قدم پر تلاشیاں لی جاتی ہیں۔پورا شہر گویا concentration camp ہے۔ہر چیک پوسٹ پر حکم ملتا ہے آگے سے کھول دو۔پیچھے سے کھول دو۔اسی سارا دن کے کھول دو۔ کھول دو سے مجھے منٹو کا افسانہ ’کھول دو‘ یاد آتاہے۔سارے بلوچستانی اسی افسانے کے کرداربن کر رہ گئے ہیں۔میں اسے ایک دلیرانہ ناول کہوں گا۔سرکاری زبان میں ’نامعلوم مقام‘ سے بولنے والے، قتل قبول کرنے والے یا ’نامعلوم افراد کی گولیوں سے مرنے والے‘۔ایسے علاقے میں لکھنا کس قدر مشکل کام ہے۔میں فارس مغل کے فن کے ساتھ ساتھ اس کی دلیری کو بھی سراہتا ہوں۔ فارس نے سگریٹ کو رومانی انداز میں لیا ہے حالانکہ بہت دن ہوئے سگریٹ کو ادب سے دیس نکالا مل چکا ہے۔اس ناول میں مسخ شدہ لاشوں، گمشدہ بلوچوں، گولیوں کا نشانہ بننے والے آبادکاروں کی تصویروں ملتی ہیں۔ویمن یونیورسٹی میں زندہ جل جانے والی طلباء کا ذکر ملتا ہے۔یہ ناول بھری تاریخ ہے۔عطا شاد کی گہری رومانیت بھی فارس کی نثر میں دکھائی دیتی ہے ۔ناول کے اکثر فقرے اس قدر پُر اثر ہیں کہ تحریر کے بعض حصوں پر نثری نظم کا گمان ہوتا ہے۔میٹھی کومل زبان جو ایک نابینا لڑکی کا دکھ بھی سموئے ہوئے ہے۔ یہ ایک بڑا ناول ہے جسے لکھنے کے لیئے علمیت اور تپسیا کے علاوہ فارس مغل نے تحریر میں خونِ جگر بھی شامل کیا ہے۔ آغا گل Agha Gul ۵اپریل ۲۰۱۸ء کوئٹہ























Comments