سو سال وفا (ناول) تبصر: حسن امام
- Dec 26, 2019
- 6 min read
کتاب = سو سال وفا

مصنف = فارس مغل تبصرہ = حسن امام
سنگلاخ نثریت اور روحانی اضطراب کی کیفیات سے دوچار افسانہ نگار اور ناول نگار ، تخلیقی جمود کا رونا روتے ہوئے نقاد اور گہرائی و گیر ائی سے عاری تحاریر کو پڑھتے ہوئے قاری احساس دلاتے ہیں کہ فکر کی راہیں مسدود ہو رہی ہیں ، لیکن ایسے میں ایک مصنف ایسے بھی ہیں جو نہ جانے کون سا اسم اعظم پڑھتے ہیں جس سے سد راہ سرکتی ہے اور ایسی تخلیق وجود میں آتی ہے جس میں ، محبت ، نفرت ، ظلم ، جبر استبداد ، فرقہ وا رانہ اور لسانی منافرت ، فکر ، فن ، فلسفہ ، تاریخ ، دشمنی دوستی اور ہجرت سب ہی کچھ ہے ۔ “ ہمجان “ سے “ سو سال وفا “ تک کا سفر کامیابی سے طے کرتے ہوئے یہ مصنف فارس مغل ہیں جو نہ صرف فیس بک پر متحرک ادبی شخصیات میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں بلکہ ملک کے ادبی حلقوں میں بھی جانے پہچانے جاتے ہیں ۔ فارس آرزوؤں ، تمناؤں ، محرومیوں اور حسرتوں کی ایسی دلگداز کہانیاں لکھتے ہیں جس کی پائندگی کے امکانات سے انکار ممکن نہیں ۔ انہوں نے جبر کی آندھیوں میں فکر کے چراغ جلائے، اور نا منصفی کی شب تاریک میں بڑی حوصلہ مندی سے قدم بڑھاتے رہے ۔ روشنی کی اسی جستجو میں ان کا ادبی سفر جاری ہے ۔ وہ صلیب بردوش انسانوں کی بھیڑ میں حرف سوال بنے خواب بُن رہے ہیں جس کی خوشنما تعبیر ہی زندگی کا حاصل ٹھہرتی ہے ۔
“ سو سال وفا “ فارس مغل کا ایک ایسا ہی خواب ہے جس کی تعبیر وہ بلوچستان میں لسانی اور مذہبی منافرت کے خاتمے کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔مسائل کے ملبے تلے دبا بلوچستان وسائل کے خزانے سے مالا مال ہے ۔ معدنی وسائل کے بیش بہا ذخائر ، قدرتی گیس کا بڑا ذخیرہ اور گوادر جیسی اہم بندرگاہ ۔ وہاں کی روایات میں زمین اور انسان سے تعلق کی جو گہری چھاپ ہے فارس اس سے ضرور متاثر ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ وہاں فطرت کے رنگوں کے تناظر میں زندگی کی نیرنگیوں کے جلوے نظر آتے ہیں ۔ ایک جانب زندگی کے مصائب نمایاں ہیں تو دوسری جانب جذبات کی دھوپ چھاؤں اور فطرت کی موسیقی نے اس سرزمین کو صحیح معنوں میں جادوئی سرزمین بنا دیا ہے ۔ مگر ان تمام خوبیوں کے باوجود آج بھی عام بلوچ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ امن و امان کا مسئلہ بہت شدید ہے ۔ اور یہی دکھ فارس کے اس ناول کی بنیاد ہے ۔
سب سے پہلی نظر کسی بھی ناول یا افسانے کے عنوان پر پڑتی ہے ۔ ہمجان کی طرح سو سال وفا بھی ایک منفرد عنوان ہے ۔ یہ عنوان اس سرزمین کے لیئے ہے جہاں ایک پیالہ پانی کی قیمت سو سال وفا کی صورت میں وصول ہوتی ہے ۔ کہانی ایک ایسے نوجوان کی ہے جو ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ مردانہ وجاہت کا شاہکار ہے ۔ وہ بلوچستان میں ہونے والی نا انصافیوں اور وہاں پر مقیم آباد کاروں کی نسل کشی کے خلاف ہے ، صحافتی اور سیاسی سطح پر ان کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اور ایک تنظیم کی رکنیت حاصل کر لیتا ہے ۔ اس نوجوان کا نام داستان ہے ۔ کراچی کی ایک میٹنگ میں شرکت کرتے ہوئے اس کی ملاقات بیلا سے ہوتی ہے ۔ بیلا بظاہر ایک دولتمند اور خوبصورت عورت ہے ۔ بیلا داستان سے متاثر ہو کر اس کی قربت کی متمنی ہو جاتی ہے لیکن داستان ایک مضبوط کردار کا مالک ہے ، ابتدا میں اس کے جذبوں کو پزیرائی نہیں بخشتا اور واپس کوئٹہ آ جاتا ہے ۔ وہاں پھولوں کی ایک نمائش میں داستان کی ملاقات فاتحہ سے ہوتی ہے ۔ فاتحہ اس کی یونیورسٹی کی ساتھی شمسہ کی دوست ہے ۔ فاتحہ بصارت سے محروم ہے ، ایک حادثے میں اس کی بینائی ضائع ہو جاتی ہے ۔ داستان یہ جانتے ہوئے بھی فاتحہ کے لیئے اپنے دل میں محبت کے جذبات کو پیدا ہونے سے روک نہیں سکا ۔ دونو ایک دوسرے کو دل و جان سے چاہتے ہیں لیکن حالات کبھی موافق اور کبھی مخالف ہو جاتے ہیں ۔ اس دوران بیلا داستان کے بہت قریب آ جاتی ہے ۔ داستان بیلا کو فاتحہ کے بارے میں بتا دیتا ہے پھر بھی بیلا اس پر فریفتہ رہتی ہے ۔ اس کے اس قدر خلوص کی وجہ سے داستان کے دل میں بھی بیلا کے لیئے نرم گوشہ پیدا ہو جاتا ہے ۔ بلوچستان کے بزرگ رہنما نواب اکبر بگتی کی متنازعہ حالات میں موت کے بعد کوئٹہ کے حالات خراب ہو جاتے ہیں ، وہاں آباد دوسرے صوبوں کے لوگوں کے لیئے نفرت کا اظہار ہونے لگتا ہے ، داستان کو یہ بات پسند نہیں آتی ، وہ اس کی مخالفت میں اخبار میں مضامین لکھتا ہے ، خفیہ ادارے کے لوگ اسے اُٹھا کر لے جاتے ہیں اور تشدد کر کے چھوڑ دیتے ہیں ۔ داستان کے حلقۂ احباب میں بھی غیر بلوچی لوگ ہیں ، وہ نہ چاہتے ہوئے بھی کوئٹہ چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ، دہشت گردی اور خود کش حملے تواتر سے ہونے لگتے ہیں اور شہر ویران ہو جاتا ہے ۔ فاتحہ کا تعلق پنجاب سے ہے اور اس صورت حال کے پیش نظر اس کے والدین اس کا رشتہ داستان سے کرنےپر پس و پیش سے کام لیتے ہیں ۔ پھر ایک دن داستان اغوا ہو جاتا ہے ۔ اس کے بعد کہانی کا کلائمیکس ہے جو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے ۔ ہر ہر سطر پر قاری کی سانس پھولنے لگتی ہے ، یوں لگتا ہے جیسے وہ تیزی سی بھاگتا ہوا آیا ہے ۔ یہ کلائمیکس ایک حیرت کدہ ہے ۔ یہاں اس کا ذکر مصنف اور ان لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے جو اس کتاب کو پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔کردار نگاری منظر نگاری اور اسلوب لا جواب ہے ۔ فارس ایک کہنہ مشق شاعر ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی نثر میں بھی شاعرانہ رنگ جھلکتا ہے ۔ الفاظ کا اس قدر خوبصورت استعمال کرتے ہیں کہ قرات کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے ، چند جملے ملاحظہ ہو ؛ ۱۔“ کچھ صفحات پر نظمیں تھیں جن کے کچھ الفاظ پانی کی بوندوں سے پھیلے ہوئے تھے ، خدا جانے وہ بارش آسمان سے برسی تھی یا آنکھوں سے “ ۲۔ “ میں نے مَردوں کی اوقات دو فٹ اونچے بیڈ سے زیادہ نہیں دیکھی “ ۳۔ جب کسی اجنبی نوجوان کا ذکر کرتے ہوئے جوان بیٹی کی آنکھوں میں حیا کی چلمن کے پیچھے خوشی کی لہر چمکتی ہوئی دکھائی دے تو ایک مجبور باپ کے پاس اپنی جہاں دیدہ نظروں کو امتحان میں ڈالنے کے سوا کیا چارہ رہ جاتا ہے “ ۴۔ یہ زمین جو کبھی ایک پیالہ پانی کی قیمت سو سال وفا مانگتی تھی ، شاید اب وفا کی قیمت ایک پیالہ لہو مقرر کر چکی ہے “
کہیں کہیں پروف ریڈنگ کی بہت معمولی سی غلطیاں ہیں جو شاید آسانی سے نظر بھی نہ آئیں ۔ اس کا ذکر اس لیئے بھی کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اتنی عمدہ کتاب میں ایسی اغلاط اچھی نہیں لگتیں ۔ مجھے یقین ہے کہ اس کا دوسرا ایڈیشن بہت جلدی شائع ہو گا تو اس وقت اسے درست کیا جا سکتا ہے ، مثلاً ا ۔ حسرت موہانی کے ایک شعر کے مصرعہ اوّل کو “ نہ چھیڑ اے “ ہمدم “ کیفیت صہبا کے افسانے “ لکھا گیا ہے جبکہ شعر میں لفظ “ ہمدم “ کی جگہ “ ہم نشیں “ ہے ( صفحہ نمبر ۱۱۴ ) ب۔ “ یہ سن کر پاؤں تلے سے زمین ایسے نکلی جیسے نو ستمبر والے دن امریکی عوام کے پاؤں تلے سے نکلی تھی ۔ یہاں نو ستمبر کی بجائے گیارہ ستمبر ہونا چاہیئے تھا ( صفحہ نمبر ۱۲۷ )
فکشن کو انگریزی میں A paradise of loose ends کہا جاتا ہے یعنی یہ ایک ایسی صنف ادب ہے جس کی کوئی چار دیواری یا حد بندی نہیں ہوتی ، لیکن اس کے با وجود وہ فن کے ایک مخصوص دائرے میں مقید ہوتی ہے اور اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہے ۔ ہر اچھے لکھنے والے کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ فن کے مخصوص دائرے میں رہتے ہوئے اپنی شناخت قائم کرے لیکن یہ آرزو مندی کڑے کوس کا سفر طے کرنے کے بعد پایۂ تکمیل کو پہنچتی ہے ۔ اس منزل تک رسائی “ نیش عشق “ گوارا کرنے اور وقت کی بھٹی میں جلنے کے بعد ممکن ہوتی ہے تب کہیں جا کر سرخروئی مقدر بنتی ہے ۔ مگر یہ کسی کسی کے حصے میں آتی ہے ۔ فارس مغل اس منزل تک پہنچ چکے ہیں ۔ ان کی یہ کتاب اور اس میں اٹھایا گیا یہ سوال “ آخر پاکستان میں تمام قومیتوں کے لوگ مسلمان ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے نفرت کیوں کرتے ہیں “ ہم سب کے لیئے سوچ کے در وا کرتا ہے ۔ ایسے تمام حضرات جو اچھا پڑھنا اور اپنے ادبی خزانے میں میعاری کتب کا اضافہ چاہتے ہیں ان کے لیئے یہ کتاب ضروری ہے ۔























Comments