سو سال وفا (ناول) مبصر: امین بھایانی
- Dec 26, 2019
- 10 min read
ناول: سو سال وفا
مصنف: فارس مغل
تبصرہ: امین صدرالدین بھایانی

صفحات: 336 سفید قمیت: 700 پاکستانی روپے *.*.*.*.*.*.*.*.*.*.*.*.*.*.*.* ان دنوں ایک عجب ہوا چلی ہے۔ جہاں کسی کو موجودہ حالات سے کوئی شکایت ہوئی، کوئی تکلیف پہنچی فوری طور پر ملک و ریاست، ریاستی اداروں، قیام وطن حتیٰ کہ معمارانِ وطن کو بُرا بھلا، لعن طعن بلکہ بڑے افسوس سے لکھنا پڑ رہا ہے کہ گالی دینے کے عمومی شعار کو اپنا لیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تمام مشکلات، مصائب اور پریشانیوں کا فقط یہی ایک شافعی علاج ہے کہ فوری طور پر لعن طعن، بد تہذیبی، بُری زبان، وطن، قیام وطن اور اپنا کام پورا کر کے اس جہاں فانی سے کوچ کر جانے والے معمارانِ وطن ہی کو بُرا بھلا کہنے اور اُن میں کیڑے نکالنے ہی کو اپنے فرائض کی بجا آوری تصور کیا جائے۔ ۔ ۔ ۔ ؟ ہم کب خود اپنی ذات میں ایک ذمہ دار شہری کا فرض ادا کرتے ہوئے ان مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا آغاز کر کے عملی طور پر کچھ کریں گے۔ ۔ ۔؟ یا بس یونہی لعن طعن ہی کے کمبل سے اپنے ضمیر کی آواز کو ڈھانک کر مطمئن ہوتے رہیں گے۔ ۔ ۔ ۔!!!۔ اسی حوالے سے زیرِ تبصرہ ناول "سو سال وفا" کے مرکزی کردار "داستان" کی سوچ ملاحظہ فرمائیں:۔ ۔"بٹوارے سے کیا فرق پڑتا ہے کہ دودھ کی نہریں تو تقسیم سے پہلے بھی کہیں نہیں تھیں۔ غلام ہم تب بھی تھے اور اب بھی ہیں۔ دونوں اطراف میں یکساں صورتحال ہے۔ دراصل خرابی کی جڑ تقسیم ہند میں نہیں بلکہ ہمارے سماج کے اندر کہیں چھپی ہوئی ہے۔ ہمارے ذہن آزاد نہیں۔ خوف ہمارے لہو میں شامل ہو چکا ہے۔ ہم آواز اُٹھانے سے ڈرتے ہیں۔ ہم علم کے حصول سے بدکتے ہیں۔ خود کو جان لینے سے کسی کی جان لینا بہتر عمل سمجھتے ہیں۔ خرابی ہمارے درون ہے۔" صفحہ: 128۔ سو حاصل اس اقتباس کا یہ ہے کہ:۔ ۔"خرابی ہمارے درون ہے۔ ۔ ۔!!!"۔ فارس کا یہ ناول پڑھنے سے پہلے میں قدرے تذبذب بلکہ سچ پوچھیں تو کشمکش کا شکار تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔!۔ سوچ رہا تھا کہ نہ معلوم فارس جو کہ پیدا بلوچستان میں ہوا، اُسی بلوچستان میں پلا بڑھا، نے اس تمام صوُرتحال کو کس طرح سے پوٹرے کیا ہوگا۔ ۔ ۔ ۔ ؟ مگر ناول پڑھتے ہوئَے مجھے اندازہ ہو گیا کہ فارس کسی محدود سوچ کے حامل مصنف کا نام نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔! فارس نام ہے ایک ایسے ترقی پسند ذہن کے حامل مصنف کا جس کی نگاہیں جہاں مسائل کی طرف ہیں تو وہیں اُس کا ذہن اُن مسائل کا مثبت و دیرپا حل تلاش و تجویز کرنے میں بھی مصروف ہے۔ ۔ ۔ ۔! وہ اُن نام نہاد دانشوران سے قطعی برعکس ہے جو آج ستر سال گزر جانے کے بعد بھی موجود صوُرتحال کی بہتری کے لیے مثبت تجاویز پیش کر کے عملی اقدامات اُٹھانے سے تو یکسر گریزاں ہیں مگر وطن کے قیام اور معمارانِ وطن اور وطن کی موجودہ صورتحال پر انگشت نمائیاں کرنے میں سب سے آگے۔ ۔ ۔!!!۔ گذشتہ دنوں ایک اور ناول میرے مطالعہ سے گزرا جسے محمود ظفر اقبال ہاشمی صاحب نے "میں جناح کا وارث ہوں" کے عنوان سے تحریر کیا۔ اُس ناول کے تبصرے میں بھی اس ناچیز نے یہی بات عرض کی تھی کہ اس وقت ہمارا مسئلہ ہے ہی یہ کہ ہماری نئی نسل کو مسائل کے حل اور اُس حل کی جانب سفر کے لیے مثبت تجاویز اور راہنمائی کی اشد ضرورت ہے نہ کہ ماضی کے فرضی سانپ کی فرضی لیکروں اور اُن لیکروں کے ڈھول کو پیٹے جانے کی۔ ۔ ۔ ۔! فارس نے اپنے اس ناول میں نہ صرف بلوچستان کے مسائل کا بھرپور تجزیہ پیش کیا ہے بلکہ اُن کے عوامل و ذمہ داران کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اُن کے حل کے لیے مثبت اور ٹھوس تجاویز بھِی پیش کی ہیں جس میں سر فہرست بندوق کی جگہ قلم، جہالت کی جگہ علم، فرسودہ جاگیردرانہ نظام اور خود غرضی و مطلب پرستی کی سیاست میں اُلجھ کر مطلبی سیاستدانوں اور طاقت کے پجاریوں کے آلہءکار بننے کی بجائے قومی یکجہتی کی طرف آگے قدم بڑھانا لازمی امر ہے۔ بصورتِ دیگر ہماری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔ ۔ ۔ ۔!!!۔ پڑھنے والوں کو شاید اندازہ ہو کہ یہ ناول دراصل بلوچستان کے پسِ منظر پر تحریر کیا گیا ہے۔ عموماً اس حوالے سے یک طرفہ کہانیاں ہی سُننے کو ملتی ہیں۔ بلوچستان کی صُورتحال کے حوالے سے ملک بھر میں اور بطورِ خاص ہندوستانی میڈیا جس قدر پروپیگنڈا کرتا ہے اس کے تناظر میں فارس جس نے بلوچستان کی دھرتی پر ہی جنم لیا اور فرزندِ بلوچستان ہے کے ناول کے ایک کردار "واجہ" کا یہ مکالمہ پیشِ خدمت ہے:۔ ۔"ہمارا آج کا بلوچستان اسلامی جمہوریہ ایران سے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں زیادہ آزاد اور خومختار ہے۔ صروت صرف ایسے اذہان کی ہے جو اس آزادی کو سنبھالنے اور پھیلانے کی سمجھ بوجھ رکھتے ہوں۔" صفحہ: 106۔ فارس کے زیرِ نظر ناول کی سب سے خاص بات جو مجھے محسوس ہوئی وہ یہ ہے کہ اس ناول میں بلوچستان کی صورتحال کو ملک بھر کی موجود حالت سے کسی طور جُدا کر کے پیش کرنے کی شعوری کوشش نہیں کی گئی جیسا کہ عموما کیا جاتا ہے۔ ناول سے کشید شدہ یہ ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:۔ ۔"۔کوئٹہ کسی زمانے میں ایک پُرامن شہر تھا۔ یہاں براہوی، پشتو، بلوچی، پنجابی، ہزارہ، سرائیکی، ہندوکو، کشمری، سندھی زبانوں کا مرکب بس ایک ہی زبان ہے۔ کوئٹہ کی رنگین اُردو کہ اِس اُردو میں تمام زبانوں کی مٹھاس شامل ہے۔ اِس کی ادائیگی میں اپنایت ہے۔ اس کی اپنی لغت اور قوائد و انشاء ہے اور ابھی اِسے بولنے والوں کے لہجے کی خُوشبو ہواوں میں تھی کہ افغان روس جنگ کے بعد سب کچھ تہس نہس ہو گیا۔ فاختائیں کوچ کر گئیں اور اِن کی جگہ فضاوں میں شکرے اور گدھ دکھائی دینے لگے۔ کوئٹہ برباد ہونے لگا۔ اِس کا سکون چھین لیا گیا۔ قوم پرستی، فرقہ واریت، تعصب، لسانی جھگڑوں نے اِس شہرِ جاناں کو آگ میں جھونک دیا۔ اس کے جسم پر نفرت کی شمشیر سے وار ہونے لگا۔" صفحہ: 110۔ پڑھنے والے اس ٘مختصر سے اقتباس سے ہی اندازہ لگائیں کہ فارس اپنے جس کوئٹہ کا غم یہاں بیان کر رہا ہے اُسے پڑھتے ہوئے کوئٹہ سے پاکستان کے کسی اور دور دراز حصے میں موجود قاری بھی خود کو اُسی غم میں شریک محسوس کر سکتا ہے کیونکہ کم و بیش یہی حال ہر پاکستانی شہر کا ہے۔ ۔ ۔ ۔! کیا کوئٹہ اور کیا کراچی۔ سب ہی ایک ہی تیر کا شکار نظر آتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔!!! فارس نے اس مسئلے کا حل جنگ و جدال، انتقام، مارو اور مر جاو میں نہیں نکالا بلکہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بہار انسان کی طرح مسائل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ببانگِ دھل کہا ہے:۔ ۔"جنگوں کی بولی بہت بکواس ہے۔" صفحہ: 132 ۔"جب تک جسم میں زندگی محسوس کرتے ہو “جیو اور جینے دو” کو اپنا مقصد حیات بنا لو Live and let live آزادی کی آرزو ہے تو سب سے پہلے اپنے سامنے والے کی آزادی تسلیم کرو اور اگر سامنے والا تمہاری آزادی تسلیم نہیں کرتا تو ان محرکات پر غور و فکر کرو جس کی بنیاد پر وہ تمہیں کمزور تصور کرتا ہے۔ گریبان میں جھانک کر اپنا احتساب کرو۔ یاد رہے غلامی ایک سوچ ہے اور سوچ کبھی بھی بدلے جا سکتی ہے۔ مدِ مقابل کی سوچ سے اپنی سوچ بلند کر دو اس کے خیالات دب جائیں گے۔" صفحہ105۔ ناول "سو سال وفا" کہانی ہے ایک بلوچ نوجوان جس کا نام "داستان" ہے جو نہ صرف پڑھا لکھا اور باشعور انسان ہے بلکہ اُسے اپنے اطراف میں وقوع پزیر ہوتے حالات و واقعات کا ادارک سطحی طور پر نہیں بلکہ وہ اُن واقعات و حالات کی زیریں لہروں میں پنہاں محرکات اور اُن محرکات سے وابستہ ڈوریوں اور اُن ڈریوں کو ہلانے والوں کی حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ ہے۔ ناول "سو سال وفا" کہانی ہے ایک نابینا نواجون لڑکی "فاتحہ" کی جو نابینا ضرور ہے مگر قدرت نے اُسے جہاں بینائی سے محروم کیا ہے وہیں اُس کے گلے میں سات سُر سمو دیئے ہیں۔ اس لڑکی اور اُس کے خاندان کا شمار بلوچستان میں پنجابی آبادکاروں میں ہوتا ہے جن کے پرکھوں نے پنجاب سے ہجرت کر کے بلوچستان کو اپنی دھرتی بنایا مگر اب مقامی شدت پسندوں کی جانب سے اُنہیں اپنے آبائی صوبے میں واپس جانے کے دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ایسے میں ایک روز کراچی کی ایک محفل میں بلوچ "داستان" پنجابی "فاتحہ" کو دیکھ کر اپنا دل ہار بیٹھتا ہے اور پھر ایک ایسی فسوں خیز پیار کی کہانی جنم لیتی ہے جس کی تپش سے کبھی داستان کا دل جُھلتسا ہے تو کبھی فاتحہ کی بے نور آنکھوں سے چھم چھم نیر بہنے لگتی ہے۔ ناول "سو سال وفا" کہانی ہے "واجہ" کہ جو بلوچستان کا ایک ایسا فرزند ہے جس نے اپنی قوم کی زبوں حالی کی نہ صرف وجہ تلاش کر لی ہے بلکہ اُس کے سدباب کے لیے مثبت عملی اقدامات کا بیٹرا اُٹھا رکھا ہے۔ واجہ اپنی علمی اکادمی کے زریعہ بلوچستان کے ضرورت مند طلب علموں کو علم کی روشنی سے بہرہ مند کرنے کے مشن پر گامزن ہے اور عدم تشدد اُس مشن کے علم کا نشان ہے مگر عدم تشدد کے ہراول دستے کا یہ سپاہی اپنی ہی قوم میں موجود شدت پسندوں اور اُن کے آقاوں کی کٹھ پتلی ہرکاروں کی گولی کا شکار ہو جاتا ہے ناول "سو سال وفا" کہانی ہے "بیلا" کی جو محبت تو کرتی ہے "داستان" سے مگر اپنے پُراسرار ماضی کے ہاتھوں اس قدر مجبور ہے کہ "داستان" سے اپنے دل کی ساری داستان بیان کر دینے اور اس حقیقت کے باوجود کہ "داستان" بھی اُس کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتا ہے اُس کی محبت کو "فاتحہ" کی امانت سمجھتے ہوئے خود ہی راہ سے الگ ہوگئی۔ ناول "سو سال وفا" کہانی ہے "یوسف" جیسے شدت پسند بلوچ نوجوانوں کی جو اُن مقامی مفاد و موقعہ پرست سیاستدانوں کی کٹھ پتلی بنے ہوے ہیں جنھیں وہ ریاستی ناانصافیوں کے پاٹھ پڑھا پڑھا کر اُنہیں جس طرح چاہیں استعمال کر کے اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔ ناول "سو سال وفا" کہانی ہے اُن جدی پشتی، مورثی اور پیشہ ور منافق سیاستدانوں کی جو صوبے کے وسائل کے حوالے سے ریاستی ناانصافیوں کے خلاف بات تو ضرور کرتے ہیں مگر صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے محروم بلوچ نوجوانوں میں پہلے شدت اور علحیدگی پسندی کے جراثیم داخل کرتے ہیں اور پھر اُنہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے بطور کٹھ پتلی استعمال کرتے ہیں کہ اُن کا خالصتاً مفاد اِس کرپٹ نظام کی برقراری یعنی کہ اسٹیٹس کو میں ہی ہے۔ اس کرپٹ نظام اور اس نظام کے تحت جینے والے مظلوموں کے استحصال کے زریعہ ہی وہ اپنی جاگیریں، قومی و صوبائی اسمبلیوں کی سٹیوں، اپنا طمطراق، اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کی مورثی حکمرانیاں قائم رکھ سکتے ہیں۔ اور پھر ایک موڑ ناول میں ایسا بھی آتا ہے کہ جب "داستان" پے در پے ہونے والے اعصاب شکن واقعات جیسا کہ بلوچستان کے "نائین الیون" (نواب اکبر بگٹی سانحہ) "واجہ" کا قتل خود اُس کی اور اُس کے ساتھیوں کی سیکیورٹی پر معمور لوگوں سے جھڑپ، حساس اداروں کی جانب سے "داستان" کا اغو اور اُس کے نتیجے میں اُس کا طویل عرصے کے لیے عضوِ معطل بن کر ہسپتال میں رہنا اور "فاتحہ" اور اُس کے گھر والوں کا شدت پسندوں کی جانب سے بلوچستان چھوڑ کر چلے جانے کی جان لیوا دھمکیوں کے بعد لاہور ہجرت کر جانا وغیرہ ایسے معاملات تھے جس نے "داستان" جیسے مضبوط اعصاب، باحوصلہ اور باشعور نوجوان کو قلم پھینک کر بندوق اُٹھا کر پہاڑوں پر چڑھ جانے کا سوچنے پر مجبور کردیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!!۔ ناول "سو سال وفا" بیک وقت بلوچوں کی محرمیوں کے ساتھ ہزارہ قوم، ذکری بلوچوں اور پنجابی آبادکاروں کا نوحہ ہے۔ بنیادی طور پر ناول "سو سال وفا" ہے تو بلوچستان کی سیاسی صورتحال کے پس منظر میں بنی گئی ایک دلگداز پریم کتھا مگر اس رنگین و سنگین پریم کتھا کے پس منظر میں فارس نے لاشعوری طور پر اپنے قاری کے ذہن میں ایک پیغام منتقل کیا ہے۔ گو کہ وہ پیغام آپ کو پورے ناول کی کسی ایک بھی سطر میں لکھا ہوا نظر نہیں آئے گا مگر یہی بطور ناول نگار فارس کا کمال ہے کہ اس نے نہ کہتے ہوئے بھی وہ ساری باتیں اپنے قاری کو باور کروا دی ہے جو اس سارے مسئلے کی اصل جڑ ہیں۔ اس ناول سے مجھے یہ بات سمجھنے میں بخوبی مدد ملی ہے کہ ریاست کیوں اور کیسے نا انصافی کرتی ہے؟ وہ کیا عوامل ہیں جس کے سبب کسی بھی ریاست کے کرتا دھرتا اپنی ہی ریاست کے شہریوں پر اُنہی کے وسائل اور زمین تنگ کر سکتے ہیں؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک لمحے کے لیے ہم ریاست کو بھی ایک فرد کی طرح دیکھتے ہیں اور یہ سچ بھی ہے کہ ریاست کسی چوبی، آہنی یا کنکڑیٹ کے ڈھانچے کا نام ہرگز نہیں بلکہ ریاست دراصل اُن افراد کے مجموعے ہی کا تو نام ہے جو ملک کی باگ دوڑ سنبھالتے ہیں۔ اب انسانی مزاج پر غور کیجیئے۔ عمومی طور پر انسان اپنے سے کمتر انسانوں کے ساتھ ہی تو ناانصافیاں کرتا ہے کیونکہ وہ یہ جانتا ہے کہ وہ کمزور ہے اور میرا مقابلہ نہ کرپائے گا۔ جبکہ اپنے برابر یا برتر کے ساتھ ناانصافی کرتے ہوئے وہ دس بار یہ سوچے گا کہ یہ میری ناانصافی کو آسانی سے قبول نہیں کرے گا۔ تو بس یہی وہ نقطہ ہے جو مجھے فارس کے ناول سے سمجھنے میں مدد ملی۔ ریاستیں اور بطورِ خاص کرپٹ ممالک کی ریاستیں بھی اپنے انہی شہریوں کے ساتھ ناانصافی کا سلوک روا رکھتی ہیں جن کے بارے میں اُنہیں پورے وثوق کے ساتھ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کبھی اپنا سر نہیں اُٹھائیں گے جس کی بنیادی وجہ اُن کی جہالت، پسماندگی، علم سے دوری، آپس کی عدم اتفاقیاں اور غربت جیسے عوامل سرفہرست ہیں۔ فارس اس ناول میں اپنے مرکزی کرداروں "داستان" اور "واجہ" کے توسط سے اسی بات پر لاشعوری طور پر مسلسل اول تا آخر نوحہ کنعاں ہے اور حصولِ علم کے زریعہ اپنے شعور کی آبیاری پر زور دے رہا ہے مگر بنا کسی واعظ اور طویل ناصحانہ بیانیے کے جس فنکارانہ مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ فارس نے اپنا یہ فرض ادا کیا ہے وہ یقیناً بطورِ ناول نگار فارس ہی کا حصہ ہے اور میں اس بات کے لیے فارس کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔۔ ہر لکھنے والے پر اس کی دھرتی ماں کا ایک قرض ہوتا ہے۔ بہت خوش قسمت ہوتے ہیں وہ قلمکار جو یہ قرض اُتارا پاتے ہیں۔ میں نے یہ بات "میں جناح کا وارث ہوں" کے تبصرے میں بھی عرض کی تھی کہ یہ ناول لکھ کر محمود ظفر اقبال ہاشمی بھائی نے اپنی دھرتی اپنی ماردِ وطن پر واجب قرض چکا دیا ہے۔ سو یہی بات آج میں بردار فارس کے لیے بھی دھرا رہا ہوں کہ یہ ناول "سو سالِ وفا" لکھ کر اس نے اپنی دھرتی ماں بلوچستان اور وطنِ عزیز پاکستان کی طرف واجب الادا قرض چکا دیا ہے۔ جیو میرے بھائی۔ حرفِ آخر: میں سمجھتا ہوں کہ یہ ناول ہر پاکستانی کو بلعموم اور پر بلوچستانی کو باالخصوص ضرور پڑھنا چاہیے تاکہ اُںہیں بلوچستان کے اصل معاملے، معاملے کی نزاکت اور اُس کی زیریں سطح میں متلاطم طوفانی موجوں کا کماحقہ ہو اندازہ ہو سکے۔ برادر فارس کو اپنے شاہکار ناول "ہمجان" کے بعد ایک اور شاہکار کی تخلیق پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور نیک خواہشات۔ امین صدرالدین بھایانی اٹلانٹا، امریکا تیئس ستمبر، 2108۔























Comments