سو سال وفا (ناول) مبصر: غازی حسین
- Dec 26, 2019
- 4 min read
ناول : سو سال وفا مصنف: فارس مغل تبصرہ : غازی حسین

پیارے دوستو!!! سچ پوچھئے تو میں ان ہی کتب پر تبصرہ کرتا ھوں جن کو پڑھنے کے بعد میں سوچ، تدبر اور وجد کی ایسی کیفیت میں پہنچ جاوں جو کسی سائنسدان پر کسی نئی دریافت پر طاری ھوتی ھے یا کسی صوفی پر کسی اسرار حقیقت کے کھلنے پر کپکپی آتی ھے یا کسی شاعر پر اپنی محبوبہ کی لٹ سامنے لہرا جانے پر وہ حسن کا کوندا لپکتا ھے جو عامی کی نگاہ سے اوجھل ھوتا ھے۔۔۔ یعنی کتاب مجھے پکار کر کہے "بتا ایسا کچھ بھی تو پہلے جانتا تھا جو میں نے تجھے سمجھایا؟" تو میں اقرار کروں" نہیں تو بے مثل رھی!!!" جناب فارس مغل کے ناول پر میں زیادہ تبصرہ نہیں لکھوں گا کیونکہ ھمارے دوست حسن امام سیر حاصل گفتگو چند روز قبل کر چکے ھیں۔۔۔ پھر آغاگل صاحب اور کچھ دیگر احباب نے بھی ناول پر تبصرے لکھے ھیں۔ میں نے غور سے سب کو پڑھا۔ پھر ناول پڑھنے کے بعد بھی انھیں تبصروں کو دوبارہ پڑھا مجھے حیرت ھوئی کہ جس بلند خیالی پر جا کر ناول نگار نے یہ ناول لکھا اس پر تبصروں میں حق ادا نہیں ھوا۔ قصور ان کا بھی نہیں نکلتا کہ جگہ ھی تھوڑی تھوڑی ملی۔ ناول شروع میں تھوڑا ڈھیلا چلتا ھے۔ یوں لگتا ھے مصنف کہانی پر گرفت کھو دیں گے لیکن پھر بتدریج میری توجہ کو تنویم میں لیتا چلا گیا۔ مثلا انتساب بہت لمبا ھے اور اپنا یادگاری اثر ختم کرتا ھوا محسوس ھوتا ھے۔ دوسرے کچھ جملے شروع میں (میرے نزدیک) بد ذوقی کے مظاہر ھیں مثلا صفحہ 12 پر ایک بڑا ادیب بننے کے خواب پر جملے لکھنے بلکل کج روی پر مبنی ھیں۔ اسی طرح صفحہ 13 پر کباڑی کو کباڑی کہنا اور لالچی بھی گرداننا پھر (میرے نزدیک) عجیب ھے۔ صفحہ 14 اور پندرہ پر بھی نثری تاثرات درست نہیں۔ مثلا شو می قسمت کو مئی اور قسمت کو قمست لکھا ھے۔۔۔اور شو می قسمت کا معنوی استعمال بھی غلط ھے۔ پھر چکوری انڈوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔ پھر جا بجا ایک بات لکھ کر اس کے تشریحی جملے بے وجہ طوالت کا سبب یعنی زوائد محسوس ھوتے ھیں۔ غالبا ان ابتدائی صفحات میں جس جھول یا ڈھیلے پن کا احساس ھوتا ھے اس کی وجہ یہ جملے ھی ھیں۔ خیر! محترم قارئین! یہ ناول بلخصوص کوئٹہ اور بلعموم پورے بلوچستان کی فضاؤں کی مشکباریوں سے معمور ھے۔ اس ناول میں فلسفہ محبت کو بے حد تفصیل اور اس کی پوری جزیات کے ساتھ زیر بحث لایا گیا ھے۔ فاضل مصنف نے محبت کے جذبات کو کچھ ایسے انداز اور مہارت سے بیان کیا ھے کہ محبت متشکل آپ کے سامنے ھنستی مسکراتی، روتی آہیں بھرتی، وصل و جدائی کے کھٹے میٹھے ہلکورے لیتی؛ اور پھر امیر غریب و سماجی اونچ نیچ کے امتیاز کے بغیر اپنا حکم چلاتی نظر آتی ھے۔ کہانی صفحہ 21 سے ایسی رفتار پکڑتی اور آپ کو اس بری طرح سے گرفت میں لیتی ھے کہ آپ اپنے لمحہ موجود اور معروض سے نکل کر ناول کے ھیرو "داستان" کے ساتھ روانہ ھو جاتے ھیں۔ اس ناول میں بلوچستان کے عظیم رومانوی قصہ "مست توکلی اور سمل" کو وقفے وقفے سے ناول کے بنیادی کردار کی زبان سے کچھ اس انداز میں سنایا گیا ھے کہ قلب پگھل پگھل جاتا ھے۔ نازک دل اور حساس طبعیت قاری آنسو ضبط نہیں کر سکتے۔ یہ ناول اھل بلوچستان کے ساتھ ھونے والی زیادتیوں کا بھرپور پس منظر پیش کرتا ھے اور ان مارے جانے والے آباد کاروں اور ھزارہ قبیلہ کے معصوم شہدا کا ایسا نوحہ ھے کہ مجھے لگتا تھا میں کوئی ناول نہیں کسی منجھے ھوے تحقیق کار رپورٹر کی رپوتاژ پڑھ رھا ھوں۔ یہ ناول جا بہ جا اعلی ادبی اور یادگار جملوں سے مزین ھے۔۔۔جو ھمارے فاضل مصنف کی زندگی کے ساتھ جاری جنگ میں گہرے ادراک اور شعوری بلاغت کا اظہار ھیں۔ مجھے اس ناول نے ایک خاص تاثر یہ بھی دیا کہ فاضل مصنف انسان کی جسمانی معذوری پر گہری حساسیت سے آگاہ ھیں کیوں کہ ان کے ناول کی ھیروئن اندھی ھے اور ھیرو کو بھی آخر میں کسی حد تک جسمانی نقص مبتلا کر کے شاید محبوبہ کی معذوری کو بیلنس کرنے کی شعوری یا لا شعوری کوشش کی گئی ھے۔۔۔ جہاں سے ھمیں فاضل مصنف کے دماغ میں اتر کر پتہ چلتا ھے کہ انھوں نے ثابت کرنے کی کامیاب کوشش کی ھے کہ معذور ھی معذور کی روحانی اور رومانی تشفی کا سبب بن سکتا ھے۔ محترم قارئین! !! اگر اس ناول کو جلد از جلد انگریزی میں ترجمہ کر کے بین الاقوامی فورمز پر ڈالا جاے تو میں یقین واثق کے ساتھ کہہ سکتا ھوں یہ ھندوستانی مصنفہ اروندتی کے ناول Ministry of Utmost Happiness سے اگر بلند نیئں تو اس کے ھم پلہ ناول ضرور ھے اور یہ ناول ثابت کر سکتا ھے کہ پاکستانی اردو ادب میں بھی بین الاقوامی سطح پر لکھنے والے مرد قلندر موجود ھیں۔ یہ ناول پاکستانی اشرافیہ اور بین الاقوامی ایجنسیوں کی ارض پاک میں ناپاک ریشہ دوانیوں کا ایک سنجیدہ اور زندہ منظر نامہ ھے۔ قابل قدر دوستو!!! طوالت کا خوف نہ ھو تو میں اس ناول سے دسیوں ایسے جملے پیش کروں جو آپ کے لئے کوٹیشنز کا درجہ اختیار کر جائیں۔۔۔اور میں سمجھ سکتا ھوں اس کے پیچھے ھمارے قابل قدر مصنف کی بے قراری میں گزری ان گنت راتوں کا تعمق و تفکر موجود ھے۔۔۔اور یہ پہلو مجھے ان کے سامنے نیاز مندی میں سر جھکانے پر حکم لگاتا ھے۔ فارس مغل! شروع کے غیر سنجیدہ جملے اور بے جا تویلات پر نظر ثانی فرما کر اور ناول کو آخر میں لگائی گئی سپیڈ پر دوبارہ تدبر کر کے اسے فورا انگریزی زبان میں ترجمہ کروا کے بین الاقوامی فورمز پر پیش کیجیئے۔۔۔ یہ ناول ملک و قوم کے لئے اعزازات جیتے گا۔ آپ سلامت رھیئے اور خوب لکھئے۔ آپ کا شکریہ جو مجھے اس ناول سے متعارف کروایا۔ وما علینا الا البلاغ المبین!























Comments